صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 440
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۴۰ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي مد نظر رکھتے ہوئے برانہیں بلکہ اس بے نظیر خشیت الہی کا ایک بین ثبوت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب مطہر میں پائی جاتی تھی۔“ نیز فرمایا: ( تفسیر کبیر ، سورة العلق، جلد ۹ صفحه ۲۲۳ تا ۲۳۲) اب رہا وحی کا سوال۔دشمن کہتا ہے کہ آپ کا اس وقت زَقِلُونِي زَقِلُونی کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک بیماری کا حملہ تھا۔ہسٹیریا کا دورہ آپ کو ہوا اور آپ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جلدی مجھ پر کپڑا ڈال دو۔مگر یہ سوال بھی وحی الہی سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ اصحاب وحی جانتے ہیں وحی الہی کے نزول کے وقت اس قدر خشیت کا نزول ہوتا ہے کہ جوڑ جوڑ ہل جاتا ہے۔کیونکہ یہ مقام قرب ہے۔دربار کی شمولیت کا حال تو درباری ہی جانتا ہے دوسرے کو کیا خبر ہو سکتی ہے۔پس یہ حالت اس قرب کی وجہ سے تھی جو اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کو حاصل تھا۔مگر اس حقیقت کو وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے جو روحانیت کے اس کوچہ سے قطعی طور پر نا آشنا ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے ویسے ہی دور ہیں جیسے مشرق سے مغرب دور ہوتا ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو جنون ہو تا ہے کیا ان کا حال صرف کپڑا اوڑھنے سے معلوم ہو تا ہے کیا یہ بھی کوئی طبی مسئلہ ہے کہ جو شخص کپڑا اوڑھ لے وہ پاگل ہوتا ہے ؟ یا کیا ڈاکٹر یہ پوچھا کرتا ہے کہ فلاں نظارہ کے وقت تم کپڑا اوڑھتے ہو یا نہیں؟ پس زَقِلُونِي زَمِّلُونی کے الفاظ سے مخالفین اسلام کا یہ استدلال کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ میں نعوذ باللہ نقص واقع ہو گیا تھا بالکل احمقانہ استدلال ہے۔بیشک اس وقت آپ پر گھبراہٹ طاری ہوئی مگر گھبراہٹ کا طاری ہونا ہر گز آپ کے اندر روحانی دماغی یا جسمانی نقص کے پائے جانے کا ثبوت نہیں۔بلکہ اس خشیت الہی کا ثبوت ہے جو آپ کے دل میں پائی جاتی تھی۔ہم نے تو دیکھا ہے معمولی دنیوی واقعات پر بعض لوگ دوسروں سے اس قدر مرعوب ہوتے ہیں کہ ان کا پسینہ بہنے لگ جاتا ہے۔افسر کسی غلطی پر تنبیہ کرے یا کسی معاملہ کے متعلق ان سے باز پرس کی جائے تو اس قدر ان پر رعب طاری ہوتا ہے کہ ہاتھ پاؤں کانپنے لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو پسینہ