صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 439 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 439

حیح البخاری جلد ۱۲ ا ۴۳۹ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي علمی نگاہ کی وسعت پر ناز ہے۔تو ان کو وہ علم سکھا جو ان کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی نہیں۔اور ان علوم اور معارف سے انہیں بہرہ ور فرما جو آج دنیا کی کسی کتاب میں بھی نہیں ملتے۔یہ سیدھی بات ہے کہ جب ایک اُمّی کو یہ کہا جائے گا کہ دنیا نے کتابیں لکھیں مگر بیکار ثابت ہوئیں اور وہ دنیا کی ہدایت کا موجب نہ بن سکیں۔اب اے شخص ہم تیرے سپرد یہ کام کرتے ہیں کہ جو علوم آج تک بڑی بڑی کتابیں لوگوں کو سکھا نہیں سکیں وہ علوم تو ہمارے حکم سے لوگوں کو سکھا۔تو لازما اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو جائے گی کہ اتنا بڑا کام میں کس طرح کر سکوں گا۔بیشک ایک پاگل کو جب یہ کہا جائے گا تو وہ خوش ہو جائے گا اور کہے گا کہ یہ کو نس بڑا کام ہے مگر عظمند کا دل خوف سے بھر جائے گا اور وہ کہے گا اتنا بڑا کام میں کس طرح کر سکوں گا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ قَدْ خَشِيتُ عَلَى نفیسی آپ کے علم کامل پر ایک زبر دست گواہ ہے۔وہ لوگ جو اس واقعہ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ میں نقص واقع ہو گیا تھا انہیں غور کرنا چاہئے کہ کیا پاگل بھی کبھی گھبراتا ہے؟ اسے تو اگر کہا جائے کہ کیا تم ساری دنیا فتح کر سکتے ہو تو وہ فورا کہہ دے گا یہ کونسی مشکل بات ہے۔مگر وہ جسے اپنی ذمہ واری کا احساس ہوتا ہے، جو کام کی اہمیت کو سمجھتا ہے، جو فرائض کی بجا آوری کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنے کیلئے تیار رہتا ہے وہ کام کے سپرد ہونے پر لرز جاتا ہے۔اس کا جسم کانپ اٹھتا ہے اور اس کے دل میں بار بار یہ خیال آنا شروع ہو جاتا ہے کہ ایسا نہ ہو میں اپنی کسی غفلت کی وجہ سے ناکام ہو جاؤں اور جو کام میرے سپرد کیا گیا ہے اس کو سر انجام دینے سے قاصر رہوں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل وحی الہی پر شک کی وجہ سے نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی شان کے انسانی دماغوں سے بالا تر ہونے پر یقین کامل کے نتیجہ میں تھا اور آپ کو یہ فکر لگ گیا تھا کہ میں اس کام کیلئے خواہ کتنی بھی قربانی کروں نہ معلوم اللہ تعالیٰ کے ارادوں کے مطابق میں بلند ہو سکوں گا یا نہیں اور اللہ تعالیٰ کی بلندشان سے خوف کرنا جرم نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے اور خدا تعالیٰ کے علو مرتبت کو