صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 438
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۳۸ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي کے متعلق ڈر پیدا ہو گیا ہے۔ج : فترة وحی پر آپ نے اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہا جیسا کہ بخاری اور مسند احمد بن حنبل دونوں میں اس واقعہ کا ذکر آتا ہے۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گھبرانا اور خشیت علی نفیسی کہنا تو اس وجہ سے تھا کہ ہر انسان کامل کے اندر یہ احساس ہوتا ہے کہ میں اپنے فرض کو ادا کر سکوں گا یا نہیں۔جو شخص چھچھورا ہوتا ہے یا ادنی طبقہ سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے اس کے سپر وجب کوئی کام کیا جاتا ہے تو بغیر اس کے کہ وہ عواقب پر نگاہ دوڑائے اور اپنے کام کی اہمیت کو سمجھے کہہ دیتا ہے کہ اس کام کی کیا حقیقت ہے میں اسے فوراً کر لوں گا۔لیکن عقلمند انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اس کے دل میں فورآ گھبراہٹ پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے کہ نہ معلوم میں اپنے فرض کو ادا کر سکوں گا یا نہیں۔قابل اور نا قابل میں یہی فرق ہوتا ہے کہ قابل کو فوراً اپنے کام کا فکر پڑ جاتا ہے مگر نا قابل کو کوئی احساس نہیں ہوتا۔وہ سمجھتا ہے کہ کام بالکل آسان ہے۔۔پس کسی کام کے سپر د ہونے پر دل میں گھبراہٹ پید ا ہو نا علم کامل کی علامت ہوتی ہے نہ اس بات کی علامت کہ وہ کام کی اہلیت نہیں رکھتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی نزول وحی پر گھبرانا اور آپ کا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اپنی گھبراہٹ اور اضطراب کا اظہار کرنا در حقیقت یہی معنے رکھتا ہے کہ آپ اپنے کام کی اہمیت کو سمجھتے تھے جب اللہ تعالی نے دنیا کی اصلاح کا کام آپ کے سپرد کیا تو فوراً آپ کو فکر شروع ہو گیا کہ اتنا بڑا کام جو میرے سپر د کیا گیا ہے نہ معلوم میں اس کو الہی منشاء کے مطابق سر انجام دے سکوں گا یا نہیں۔آپ کے سپر د جو کام کیا گیا اور جس کا پہلی وحی میں ہی بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کر دیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ اقرا بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِى خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ إِقْرَا وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ 0 الَّذِي عَلَمَ بِالْقَلَمِ O عَلَمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا آج جن لوگوں کے ہاتھوں میں قلمیں ہیں جو بڑے بڑے علوم کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جن کو اپنے تجربہ اور اپنی