صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 437
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۳۷ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي آپ نے صرف اتنا فرمایا ہے کہ میں نے ایسا نظارہ دیکھا تو اس میں اختلاف کی کوئی بات نہیں۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بھی ان معنوں میں رویا کا لفظ استعمال کیا ہے۔آپؐ فرماتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی الہی کا آغاز رویاء صالحہ سے ہوا۔یہاں رویا کا لفظ صرف انہی نظاروں کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو انسان سوتے ہوئے دیکھتا ہے پس یوروپین مصنفین کی طرف سے جو اختلاف پیش کیا جاتا ہے وہ در حقیقت اختلاف نہیں بلکہ محاورہ زبان کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔اگر یہ رویاء ہی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھی تو بہر حال جیسا کہ ہمیں یقین اور وثوق ہے یہ رویاء اس قسم کی نہیں تھی جس میں انسان پر کامل نیند طاری ہوتی ہے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی فرق کرتی ہیں۔آپ ایک طرف تو یہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدار و یا صادقہ سے ہوئی جو آپ سوتے ہوئے دیکھتے مگر اس دوسری وحی کے متعلق جس میں جبریل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔آپؐ فرماتی ہیں: فَجَاءَهُ الْمَلِكُ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں نظاروں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرق کر رہی ہیں جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ غار حراء میں آپ کو جو نظارہ دکھایا گیا وہ گہری نیند والا نہ تھا بلکہ کشفی نیند والا تھا۔اور ابن ہشام والی روایت کے معنے گہری نیند کے نہیں بلکہ کشفی نیند کے ہیں اور آپ کے ان الفاظ کا کہ پھر میں جاگ اٹھا صرف اتنا مفہوم ہے کہ پھر میری کشفی حالت جاتی رہی۔پس ابن ہشام کی روایت اور بخاری و مسند احمد بن حنبل کی حدیث میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔دوسرا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رؤیا پر شک تھا۔اس سوال کی بنیاد اس امر پر رکھی جاتی ہے کہ الف: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔باء: آپ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا: قد خَشِيتُ عَلَى نَفْسِی مجھے تو اپنے نفس