صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 23 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 23

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳ ۶۵ - كتاب التفسير / حم السجدة زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْمِنْهَالِ بِهَذَا۔ زيد بن ابی انیسہ سے، زید نے منہال سے یہی د دور دود غير من روایت بیان کی۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ لَهُمْ أَجْرُ مَنُون اور مجاہد نے کہا: لَهُمُ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُو ( میں ( حم السجدة: 9) مَحْسُوبٍ ، أَقْوَاتَهَا مَمْنُون کے معنی) مَحْسُوب کے ہیں یعنی حساب ( حم السجدة: (١١) أَرْزَاقَهَا ۔ فِي كُلِّ سَمَاءِ ہے۔ اقواتھا کے معنی ہیں اس کے رزق في أمرها ( حم السجدة: ١٣) مِمَّا أَمَرَ بِهِ۔ كُلِّ سَمَاءِ أَمْرَھا سے مراد ہے کہ جو حکم ہر ایک آسمان سے متعلق ہے۔ محسات کے معنی منحوس۔ وَقَيَّضُنَا لَهُمْ قُرناء یعنی ہم نے ان کے ساتھ نَحِسَاتٍ ( حم السجدة: ١٧) مَشَائِيمَ، وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاء ( حم السجدة : ٢٦) ان کے جوڑ کے ساتھی لگا دیئے ہیں۔ تَتَنَزَّلُ قَرَنَاهُمْ بِهِمْ } ، تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ یعنی فرشتے ان پر اترتے ہیں المليكة ( حم السجدة : ۳۱) عِنْدَ الْمَوْتِ موت کے وقت۔ اخترت کے معنی ہیں سبزہ سے اهْتَزَّتُ ( حم السجدة : ٤٠) بِالنَّبَاتِ لہلہانے لگتی ہے۔ اور ریت کے معنی ابھر آتی ہے، وربت (حم السجدة : ٤٠) ارْتَفَعَتْ پھول جاتی ہے۔ اور مجاہد کے سوا اوروں نے کہا: وَقَالَ غَيْرُهُ مِنْ الْمَامِهَا ( حم السجدة : ٤٨) من المامها سے مراد وہ وقت ہے کہ جب گا بھے حِينَ تَطْلُعُ لَيَقُولَنَّ هَذَا فِي نکلتے ہیں۔ لَيَقُولَنَّ هَذَا نِی یعنی وہ کہتا ہے کہ (یہ ( حم السجدة : ٥١) أَيْ بِعَمَلِي أَنا مجھے ملا ہے) میرے عمل کی وجہ سے میں اس کا حقدار تھا۔ سواء لِلسَّابِلِينَ سب مانگنے والوں مَحْقُوق بِهَذَا سَوَاءَ لِلسَّابِلِينَ ( حم السجدة : (١١) قَدَّرَهَا سَوَاءً۔ کے لئے اس کو یکساں رکھا۔ فَهَدَيْنَهُمُ سے یہ مراد ہے کہ ہم نے ان کو اچھے بُرے کا پتہ دے فَهَدَيْنَهُمُ (حم السجدة : ١٨) دَلَلْنَاهُمْ دیا جیسا کہ یہ فرمایا: وَهَدَينه النجدين (یعنی پھر عَلَى الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَقَوْلِهِ وَهَدَيْنَهُ ہم نے اُسے (ہدایت اور گمراہی کے) دونوں التجدين (البلد: (١١) وَكَقَوْلِهِ هَدَيْنَهُ راستے بھی بتا دیئے ہیں۔ ) اور جیسے یہ فرمایا: هَدَينه السبيل ( الدهر : ٤) وَالْهُدَى الَّذِي السَّبِيلَ یعنی ہم نے اُسے اُس کے مطابق حال رستہ ا یہ الفاظ اصیلی کے نسخہ کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۱۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔