صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 436 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 436

یح البخاری جلد ۱۲ ۴۳۶ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي تھے۔پس یہ دونوں باتیں آپس میں کوئی اختلاف نہیں رکھتیں۔محض کشف کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یورپین مصنفین کو یہ غلطی لگی ہے۔مسند احمد بن حنبل اور بخاری کی حدیث کو یوں بھی حل کیا جاسکتا ہے کہ بعض دفعہ خواب کا لفظ نہیں بولا جاتا جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ میں قرآن کریم حضرت یوسف علیہ السلام کی رؤیا کی نسبت فرماتا ہے کہ یوسف نے اپنے باپ سے کہا: إِنّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَباً وَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَجِدِينَ (یوسف ع (۱) کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں یہاں خواب کا کوئی لفظ نہیں صرف اتنا ذکر ہے کہ میں نے دیکھا۔مگر اگلی آیت میں ہی حضرت یعقوب علیہ السلام یہ بات سن کر فرماتے ہیں: يبنى لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى اِخْوَتِكَ (يوسف عا) اے میرے بیٹے تو اس رویا کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کیجیو۔اب دیکھو ایک آیت میں اسے ظاہری نظارہ قرار دیا گیا ہے اور دوسری میں اسے رویا قرار دیا گیا ہے پس یہ ایک طریق بیان ہے جو عربی زبان میں رائج ہے اس سے کسی اختلاف کا ثبوت نہیں نکل سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ مختلف زبانوں میں الگ الگ محاورات رائج ہوتے ہے۔عربی زبان میں ایسے نظاروں کے لئے رویا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کے معنے دیکھنے کے ہیں۔گو محاورہ میں ایسے نظارہ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو نیند کی حالت میں دیکھا جائے۔لیکن فارسی نے اس کے لئے خواب کا لفظ تجویز کیا ہے جس کے معنے نیند کے ہیں۔یہ بھی ایک فرق ہے جو عربی زبان کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے قرآن کریم نے ہر جگہ رویا کا لفظ ہی خواب کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ درحقیقت وہی حالت اصل بیداری کی ہوتی ہے جس میں انسان خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو گو ظاہری طور پر اس پر نیند یا ر بودگی کی کیفیت طاری ہو۔لیکن ایرانی لوگ چونکہ ماہر نہیں تھے انہوں نے خواب کا لفظ ایجاد کر لیا حالانکہ خواب کے معنے محض نیند کے ہیں پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر کسی جگہ یہ فرمایا ہے کہ میں نیند سے بیدار ہو گیا اور دوسری جگہ