صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 435
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۳۵ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي کوئی اور حالت اس پر طاری ہو گئی ہے جو اسے اس دنیا سے الگ لے گئی ہے۔اسی طرح اس حالت کے جاتے وقت بھی انسان یوں معلوم کرتا ہے کہ وہ گویا ایک غیر معمولی حالت سے پھر حواس میں آگیا ہے۔اس کی مثال بالکل ایسی ہوتی ہے جیسے ریڈیو کو ایک میٹر سے دوسرے میٹر پر تبدیل کر دیا جاتا ہے۔پہلے وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے اس دنیا سے کھینچ کر کسی اور دنیا میں لے جایا گیا ہے اور جب وہ حالت جاتی ہے تو وہ یکدم محسوس کرتا ہے کہ اسے کسی اور دنیا سے اس دنیا میں واپس لوٹادیا گیا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو انسان کو یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ اس نے جو کچھ دیکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یا اس کے نفس کا خیال ہے۔پس بوجہ اس کے کہ وہ حالت کامل نیند کی نہیں ہوتی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میں نے جاگتے ہوئے ایسا دیکھا اور بوجہ اس کے کہ جاگنے کی حالت پر ایک خاص تصرف کیا جاتا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیند طاری ہوئی اور اس میں یہ یہ دیکھا۔اور میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے اس لئے مجھے اس میں کوئی اچنبھے کی بات نظر نہیں آتی۔پس یہ مادی نظارہ نہیں تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔مگر بوجہ اس کے کہ آپ کے حواس ظاہری کام کر رہے تھے۔ہم اسے یقظه بھی کہہ سکتے ہیں۔در حقیقت کشف ایک مَا بَيْنَ النَّوْمِ وَالْيَقظَه کیفیت کا نام ہے چونکہ وہ حالت کامل نیند کی نہیں ہوتی اس لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جاگتے ہوئے فلاں نظارہ دیکھا گیا اور چونکہ جاگنے کی حالت پر خاص تصرف کیا جاتا ہے اس لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیند کی حالت میں ہم نے ایسا نظارہ دیکھا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی موقع پر یہ فرما دیا کہ میں نے جاگتے ہوئے ایسا نظارہ دیکھا تھا اور کسی موقع پر آپ نے یہ فرما دیا ہو گا کہ میں نے نیند کی حالت میں ایسا نظارہ دیکھا۔جو لوگ صاحب کشوف ہیں وہ ہمیشہ ایسے الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں میں یہ نظارہ دیکھ کر جاگ پڑ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میں ربودگی کی کیفیت سے عام حالت میں آگیا اور بھی کہتے ہیں میں نے جاگتے ہوئے فلاں نظارہ دیکھا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میرے حواس ظاہری بھی اس وقت کام کر رہے