صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 434
یح البخاری جلد ۱۲ ۴۳۴ ۶۵ کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي تسلیم کر لیا جائے تب بھی انبیاء بنی اسرائیل سے آپ کی مشابہت ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کو خدا تعالیٰ کے فرشتے آمنے سامنے نظر آتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا وہ ایک خواب تھی۔جن لوگوں نے اس بات پر زور دینا چاہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ میں نعوذ باللہ کوئی نقص واقعہ ہو گیا تھا انہوں نے ابن ہشام کی روایت کو نظر انداز کر کے بخاری اور مسند احمد بن حنبل کی وہ حدیث لے لی ہے جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرشتہ کو دیکھا۔وہ کہتے ہیں چونکہ انسانی دماغ اس قسم کا نظارہ نہیں دیکھ سکتا اس لئے یہ نظارہ علامت تھی اس بات کی کہ آپ کا دماغ نعوذ باللہ خراب ہو گیا تھا۔میرے نزدیک یورپین مصنفین کی نیت خواہ کچھ ہو اس بارہ میں اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نظارہ کشف کی حقیقت کو سمجھتے ہی نہیں۔وہ اس قدر مذہب سے دور جاپڑے ہیں کہ کشفی نظارے ان کو بہت ہی کم نظر آتے ہیں بلکہ خواہیں بھی ان کو بہت کم آتی ہیں۔گو خدائی سنت یہ ہے کہ ہر قسم کے طبقہ کو خواہیں دکھائی جاتی ہیں مگر پھر بھی یورپین لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کو ساری عمر میں بھی کبھی کوئی خواب نہیں آئی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دن کو کام کرتے ہیں اور رات کو ناچتے ہیں پھر شراب پی کر یا نیند کی دوائیں کھا کر سو جاتے ہیں۔اس وجہ سے انہیں ایسی خواہیں بھی نہیں آتیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ وہ کنچنسیوں کو بھی آجاتی ہیں۔کیونکہ شراب کا نشہ ان کے دماغ کو بالکل معطل کر دیتا ہے۔پس میرے نزدیک اس بارہ میں اختلاف نظارہ کشف کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوا ہے اور مغربی لوگ اس علم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔بات یہ ہے کہ جب کشف کی حالت انسان پر طاری ہوتی ہے تو جیسا کہ صاحب تجر بہ لوگ جانتے ہیں اس وقت انسان اپنے آپ پر ایک ربودیت کی حالت محسوس کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے اس دنیا سے کھینچ کر کسی اور دنیا میں لے جایا گیا ہے۔اسے اپنے ارد گرد کی سب چیزیں نظر آتی ہے ، مکان کی دیواریں نظر آتی ہیں، گھر کا سامان نظر آتا ہے۔مگر اس کے باوجو د وہ محسوس کرتا ہے کہ