صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 433 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 433

حیح البخاری جلد ۱۲ ۴۳۳ ۶۵ کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي لیکن بعض دوسرے مخالفین کا دماغ اس طرف گیا ہے کہ ممکن ہے کچھ لوگ جنون کی تھیوری کو تسلیم نہ کریں اور وہ اس بات کو مان لیں کہ سچ سچ اس قسم کا واقعہ ہو سکتا ہے اور اگر انہوں نے مان لیا تو فرشتے دیکھنے یا اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی اسرائیل کے نبیوں کے مشابہ قرار دے دیں گے اور یہ بڑی تکلیف دہ بات ہو گی۔پس انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ یہ کوئی نظارہ نہیں تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا بلکہ ایک خواب تھی جو آپ کو آئی اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ بات ہماری روایات میں بھی بیان ہوئی ہے۔چنانچہ ابن ہشام لکھتے ہیں۔جب وہ رات آگئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت سے مفتخر فرمایا اور اپنے بندوں پر رحم کیا تو جبریل اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔آگے لکھا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے پاس جبریل آیا وانا نائم اور اس وقت میں سور ہا تھا۔اس حوالہ میں صاف طور پر نیند کا لفظ آتا ہے۔وہ کہتے ہیں ہم اس روایت پر بنیاد رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ در حقیقت یہ ایک خواب تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھی۔اس تاویل سے ان کا منشاء یہ ہے کہ بائبل کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے انسان کو بالمشافہ نظر آتے ہیں اور وہ اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔اگر ہم یہ ثابت کر دیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتہ نظر نہیں آیا بلکہ ایک خواب تھی جو آپ نے دیکھی تو بائبل کے نبیوں سے آپ کی مشابہت ثابت نہیں ہو سکے گی۔گو بخاری اور مسند احمد بن حنبل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی جو حدیث آتی ہے اس میں صاف طور پر یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں کے سامنے جبریل کو دیکھا۔مگر چونکہ یہ حدیث ان کے منشاء کے خلاف ہے اس لئے وہ بخاری یا مسند احمد بن جنبل کی حدیث کی بجائے ابن ہشام کی اس روایت پر اپنے دعویٰ کی بنیاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی فرشتہ اپنی آنکھوں سے نظر نہیں آیا صرف ایک خواب تھی جو حراء میں آپ کو آئی۔اگر اس خواب کو درست بھی