صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 432 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 432

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي کرتے ہیں تو وہ بھی بعض دفعہ بڑے شوق سے یہ ذکر کرتے ہیں کہ ہمارا نکاح کس طرح ہوا۔اگر معمولی دنیوی واقعات ایسی اہمیت رکھتے ہیں کہ انسان ان کا ذکر کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وہ آخری کلام جس کے ذریعہ دنیا قیامت تک ہدایت پاتی رہے گی، جس کے ذریعہ انسانی پیدائش کا مقصد پورا ہوا، جس کے ذریعہ انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوا، جس کے ذریعہ خالق اور مخلوق کا تعلق آپس میں قائم کیا گیا، اس کی بنیاد جن آیات پر ہے ان کی اہمیت اور عظمت سے کون شخص انکار کر سکتا ہے۔۔۔پس ابتداء وحی ایک نہایت ہی اہمیت رکھنے اور جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والی چیز ہے۔اسی وجہ سے دشمنوں کی بھی اس پر خاص طور پر نظر پڑی ہے اور انہوں نے ان آیات اور ابتداء وحی سے تعلق رکھنے والے واقعات سے قسم قسم کے استدلال کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی وحی کی تنقیص کرنے کی کوشش کی ہے۔کوئی کہتا ہے وحی ایک ڈھکونسلا ہے، کوئی کہتا ہے وحی ایک بیماری کا حملہ تھی۔چنانچہ آپ کا زَقِلُونی زَمِلُونی کہنا اس پر شاہد ہے۔کئی کہتے ہیں یہ بیماری اور جھوٹ دونوں کا اجتماع تھا۔پھر واقعہ پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے۔آپ کے گھبرانے پر بھی اعتراض ہے کہ آپ کو وحی پر شک تھا یا یہ اعتراض ہے کہ اپنی قابلیت پر شک تھایا یہ کہ آپ نے خدا تعالی کا حکم ماننے سے پہلو تہی کی۔یہ بھی اعتراض ہے کہ اس وحی کی نوعیت کیا تھی۔آیا یہ مادی نظارہ یا خواب تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آئی۔غرض مختلف دشمنوں نے اپنے اپنے رنگ میں استدلال کیا ہے۔غیر مسلم مصنفین کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات اُٹھائیں جس سے قرآن کریم پر حملہ ہو سکے۔چنانچہ بعض نے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ وحی ایک نظارہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور چونکہ انسانی دماغ اس قسم کا نظارہ دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا اس لئے یہ غیر معمولی اور مافوق الطبیعات نظارہ در حقیقت علامت تھی اس بات کی کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ میں خشکی پیدا ہو کر جنون رونما ہو گیا تھا۔