صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 431 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 431

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي احساس تھا اور ادب کی وجہ سے آپ یہ کہنا بھی مناسب نہ سمجھتے تھے کہ میری جگہ کسی اور کو مقرر کر دیں میں اس کام کے قابل نہیں۔ان وجوہ کی بناء پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھنا نہیں جانتا۔حالانکہ اس وقت آپ کو پڑھنے کیلئے نہیں کہا گیا تھا۔در حقیقت یہ ایک ادب کا طریق تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جذبات کے اظہار کیلئے اختیار فرمایا۔آپ نے سمجھا کہ براہ راست انکار کرنا تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی ہوگی اور اگر میں نے کہا کہ میں اس کام کے قابل نہیں تو یہ بھی ادب کے خلاف ہو گا اس لئے میں کوئی اور رنگ اختیار کروں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رنگ اختیار کیا کہ آپ نے فرمایا مَا آنَا بِقَارِی میں تو پڑھے لکھے آدمیوں میں سے نہیں ہوں۔میں نے کیا کام کرنا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ خود فرشتہ نے بھی آخر میں ظاہر کر دیا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ پڑھو بلکہ مطلب یہ تھا کہ جو کچھ میں کہتا جاؤں اسے ساتھ ساتھ دہراتے جاؤ۔۔۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کو دہرادیا تو چونکہ اس کا مقصد حاصل ہو گیا اس لئے وہ واپس چلا گیا۔ابتداء وحی ایک نہایت اہم مسئلہ ہے جیسا کہ ابن کثیر نے کہا ہے یہ پہلی رحمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا اور پہلی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے فضل سے انہیں حصہ عطا فرمایا۔پس اس سورۃ کی ابتدائی آیات اس لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ قرآن کریم کیلئے بمنزلہ بیچ اور گٹھلی کے ہیں اور ان آیات کے نزول کے بعد باقی قرآن نازل ہوا ہے۔یوں تو سارا قرآن ہی اہمیت رکھتا ہے مگر جذباتی طور پر اقرا باسم ربَّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ علق ایسی اہمیت رکھنے والی آیات ہیں کہ جب انسان ان کو پڑھتا ہے اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور وہ کہتا ہے یہ وہ آیات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے قرآن سے روشناس کرایا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے دوست آپس میں ملتے ہیں تو وہ ایک دوسرے سے بعض دفعہ خاص طور پر اس امر کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کی دوستی کا آغاز کس طرح ہوا یا میاں بیوی آپس میں مذاکرہ