صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 430 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 430

صحیح البخاری جلد ۱۲ سوم ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ما انا بقاری پر اس کا یہ مفہوم نہیں تھا کہ میں کتاب نہیں پڑھ سکتا کیونکہ کتاب تو اس جگہ کوئی پیش ہی نہیں تھی۔ایک حدیث میں بیشک آتا ہے کہ جبریل کے ہاتھ میں ایک کپڑا تھا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا۔مگر اس حدیث میں یہ ذکر نہیں آتا کہ جبریل نے وہ کپڑا دکھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا ہو کہ اس پر جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھو کیونکہ اسی حدیث میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کیا پڑھوں۔اگر اس نے کپڑا دکھا کر کچھ پڑھانا ہوتا تو آپ یہ نہ کہہ سکتے کہ میں کیا پڑھوں۔حقیقت یہ ہے کہ مَا آنَا بِقَارِی کے الفاظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکسار کے طور پر استعمال فرمائے تھے اور آپ ڈرتے تھے کہ میں عہدہ نبوت کی اہم ذمہ داریوں کو پوری خوش اسلوبی سے ادا بھی کر سکوں گا یا نہیں۔یہی حال ہر نبی کا ہوتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہیں فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصاحت رکھتا ہے اسے بھی میرے ساتھ بھجوادیجئے۔۔۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی یہ کام سپر د کر دیا۔مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام جب چالیس دن کیلئے پہاڑ پر گئے تو بعد میں حضرت ہارون بنی اسرائیل کو سنبھال نہ سکے۔باوجود ان کے منع کرنے کے وہ شرک میں مبتلا ہو گئے اور بچھڑے کی پرستش کرنے لگ گئے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتادیا کہ دیکھ لو انتخاب وہی صحیح تھا جو ہم نے کیا۔تم نے اپنے لئے ہارون کا انتخاب کیا تھا مگر ہارون قوم کی نگرانی نہ کر سکا۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نبوت کا کام کسی عظیم الشان انسان کے سپر د کیا جاتا ہے تو طبعی طور پر وہ گھبراتا اور ہچکچاہٹ کا اظہار کرتا ہے۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں حجاب بھی تھا، انکسار بھی تھا، اپنے اہم فرائض کو دیکھتے ہوئے خوف بھی تھا۔اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے استغناء کا بھی آپ کو