صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 429
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۴۹ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي سے پہلا حصہ ہے جو نازل ہوا۔ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں: هَذِهِ أَوَّلُ سُورة أُنْزِلَت عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( فتح البیان) یہ پہلی سورۃ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی روایت ہے۔۔۔جمہور کا مذہب یہی ہے کہ یہ پہلی سورۃ ہے جو قرآن کریم میں سے نازل ہوئی۔اس کے بعد نُون والقلم نازل ہوئی پھر مزمل نازل ہوئی اور پھر مد تر نازل ہوئی۔۔۔اور بخاری کی روایت سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اقرا کے بعد مدثر نازل ہوئی۔لیکن یہ اختلاف حقیقی نہیں در حقیقت ایک امر کے نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ اختلاف پیدا ہوا ہے۔لوگ عام طور پر خیال کرتے ہیں کہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ کے بعد فترة وحی ہوئی ہے حالانکہ جو حدیث بخاری میں بیان ہوئی ہے اس سے یہ پتہ نہیں لگتا۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اس کے کچھ عرصہ بعد ورقہ بن نوفل فوت ہوئے اور پھر فترة کا زمانہ آگیا۔درمیانی عرصہ کا اس حدیث میں ذکر نہیں کیا گیا۔فترۃ وحی چونکہ ایک اہم مسئلہ تھا اس لئے اس کا ذکر کر دیا گیا مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اقرا کے بعد فترة ہوئی بلکہ اقرأ کے بعد کچھ اور کلام نازل ہوا تھا اور اس کے بعد فترة ہوئی ہے اور یہی بات قرین قیاس بھی ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ 0 عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُہ تو اس میں تو کوئی حکم بیان نہیں ہوا پھر کیا حکم دیا تھا جس کے متعلق اقرأ کہا گیا تھا۔اقرا کا لفظ صاف بتاتا ہے کہ کوئی باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہنی ہیں۔وہ کہنے والی باتیں بہر حال افترا کے بعد نازل ہونی چاہئے تھیں۔چنانچہ اقرا کے بعد نون و القلم نازل ہوئی اور اس کے بعد سورۃ مزمل نازل ہوئی اور پھر فترة کا زمانہ آگیا۔پس میرے نزدیک اصل واقعہ یہ ہے کہ اقرا کی ابتدائی آیات اور اسی طرح نون والقلم اور سورۃ المزمل کی کچھ آیات پہلے نازل ہوئیں پھر فترة وحی ہوئی اور اس کے ختم ہونے پر سورۃ المدثر نازل ہوئی۔