صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 428 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 428

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۲۸ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي ٤٩٥٤ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ :۴۹۵۴ محمد بن شہاب کہتے تھے۔مجھے ابوسلمہ فَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ جَابِرَ بْنَ ( بن عبد الرحمن) نے بتایا کہ حضرت جابر بن عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ عبدالله انصاری رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ اس وقت وحی وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ قَالَ فِي کے موقوف ہونے کے متعلق باتیں کر رہے تھے حَدِيثِهِ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ آپ نے اپنی گفتگو کے اثناء میں فرمایا: ایک بار میں السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلَكُ چلا جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی۔میں نے اپنی نظر جو اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس سے ڈر مکمل اوڑھاؤ، مجھے کی اور لوٹ گیا۔میں نے کہا: الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِي وہی فرشتہ ہے جو میرے پاس حرا میں آیا تھا وہ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَفَرِقْتُ مِنْهُ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَدَبَّرُوهُ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى : يَايُّهَا الْمُدَّقِرُه قُم اوڑھاؤ۔انہوں نے فَانْذِرُه وَرَبَّكَ فَكَبْرُ وَ ثِيَابَكَ فَظِهْرُ آپ کو کپڑا اوڑھا دیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ ( المدثر : ٢-٦) قَالَ نازل کیں یعنی اے بارانی کوٹ پہن کر کھڑے أَبُو سَلَمَةَ وَهِيَ الْأَوْثَانُ الَّتِي كَانَ أَهْلُ ہونے والے، کھڑا ہو جا اور دُور دُور جا کے لوگوں کو الْجَاهِلِيَّةِ يَعْبُدُونَ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ ہوشیار کر ، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر ، اور اپنے پاس رہنے والے لوگوں کو پاک کر ، اور شرک کو مٹا ڈال۔ابو سلمہ نے کہا: (رجز سے مراد ) وہ بت ہیں جن کو زمانہ جاہلیت کے لوگ پوجا کرتے تھے۔کہتے تھے : پھر اس کے بعد وحی لگا تار آنے لگی۔أطرافه ،٤، ۳۲۳۸، ۱۹۲۲، ۱۹۲۳ ،٤۹۲۹ ٤٩٢٥ ٤٩٢٦، ٦٢١٤ - یح أَوَّلُ مَابُدِهِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: پہلے پہل وحی کی جو تم رسول اللہ لی لیلیوم کو شروع ہوئی۔اس سے مرادر و یا صالحہ ہے۔جس کا آغاز قرآنی وحی سے پہلے ہو چکا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " ابن عباس کہتے ہیں:بھی أَوَّلُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ ( فتح البیان) یہ قرآن میں