صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 427 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 427

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۲۷ ۶۵ - كتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ قَالَ مدد کرتے ہیں۔ حضرت خدیجہ آپؐ کو ساتھ لے وَرَقَةُ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ کر ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں اور وہ حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا خدیجہ کے چازاد یعنی جو اُن کے باپ کا حقیقی بھائی رَأَى فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي تھا اس کے بیٹے تھے اور وہ ایسے شخص تھے جو زمانہ أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى لَيْتَنِي فِيهَا جَدَعًا، جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی لکھنا جانتے تھے اور انجیل میں سے جو اللہ لکھوانا چاہتا عربی میں لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا ذَكَرَ حَرْفًا قَالَ لکھا کرتے تھے اور وہ بہت بوڑھے تھے اندھے ہو رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گئے تھے۔ حضرت خدیجہ نے کہا: چا اپن بھتیجے کی أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ قَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ بات سنو۔ ورقہ نے کہا: بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو ؟ نبی رَجُلٌ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا أُوذِيَ وَإِنْ صلى اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا اس کا حال ان يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ حَيًّا أَنْصُرْكَ نَصْرًا سے بیان کیا۔ ورقہ نے سن کر کہا: یہ تو وہ راز دار مُؤَزَّرًا ۔ ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ ہے جو موسیٰ پر نازل کیا گیا تھا، کاش کہ میں اس زمانہ وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ میں جوان ہوتا، اے کاش کہ میں اس زمانہ میں رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ زندہ رہوں۔ اس کے بعد ورقہ نے ایک اور بات کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا: ہاں کوئی شخص بھی وہ بات لے کر نہیں آیا جو تم لائے ہو مگر ضرور ہی اسے ستایا گیا اور اگر تمہارے زمانہ نے مجھے زندہ پایا تو میں کمر باندھ کر تمہاری مدد کروں گا۔ پھر اس کے بعد ورقہ زیادہ دیر نہیں رہا فوت ہو گیا اور وحی بھی کچھ دیر کے لئے موقوف ہو گئی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افسر وہ خاطر ہو گئے۔ أطرافه: ۳، ۳۳۹۲، ٤٩٥٥ ٤٩٥٦، ٤٩٥٧، ٦٩٨٢- ا الهروی کے نسخہ کے مطابق اس جگہ الفاظ یا ابن عم ہیں۔ (صحیح البخاری باختلاف الروايات، جزء ۳ حاشیه صفحه ۳۰۹ مطبوعہ دار النا ۳۰۹ مطبوعہ دار الفکر بیروت)