صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 22 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 22

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۲ ۶۵ - کتاب التفسير / حم السجدة (البقرة: (٣٠) فِي يَوْمَيْنِ آخَرَيْنِ ثُمَّ دَحَا جو کافر ہیں آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان الْأَرْضَ وَدَحْوُهَا أَنْ أَخْرَجَ مِنْهَا الْمَاءَ ہوتے (اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ) اس نے وَالْمَرْعَى وَخَلَقَ الْجِبَالَ وَالْجِمَالَ زمین کو دو دن میں پیدا کیا پھر آسمان کو پیدا کیا۔یعنی زمین کی پیدائش کے بعد آسمان کی طرف وَالْآكَامَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي يَوْمَيْنِ آخَرَيْنِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ دَحْهَا (النزعت : ۳۱) وَقَوْلُهُ متوجہ ہوا اور اس نے ان کو (سات طبقوں میں) مرتب کیا اور یہ بھی دو دنوں میں کیا اور یہ جو خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ ( حم السجدة: ١٠) في فرمایا کہ پھر زمین کو پھیلایا۔اس کے پھیلانے فَجُعِلَتِ الْأَرْضُ وَمَا فِيهَا مِنْ شَيْءٍ سے یہ مراد ہے کہ اس سے پانی اور چارہ پیدا کیا أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ وَخُلِقَتِ السَّمَوَاتُ اور پہاڑوں اور اُونٹوں اور ٹیلوں کو اور جو اُن فِي يَوْمَيْنِ، وَكَانَ اللهُ غَفُورًا سَمَّى دونوں کے درمیان ہے دو اور دنوں میں پیدا کیا۔نَفْسَهُ ذَلِكَ وَذَلِكَ قَوْلُهُ أَيْ لَمْ يَزَلْ یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے یعنی اُس كَذَلِكَ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُرِدْ شَيْئًا إِلَّا نے (زمین کو بچھایا ہے۔نیز اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ أَصَابَ بِهِ الَّذِي أَرَادَ فَلَا يَخْتَلِفْ اس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔تو زمین اور جو عَلَيْكَ الْقُرْآنُ فَإِنَّ كُلًّا مَنْ عِنْدِ اللهِ۔کچھ اس میں ہے چار ادوار میں پیدا کی گئی اور یہ آسمان دو ادوار میں بنائے گئے۔(گل چھ دور ہوئے۔) (اور یہ جو فرمایا: وَكَانَ اللهُ غَفُورًا تو مراد ہے کہ اس نے اپنا یہ نام رکھا۔یعنی اس کے قول کے مطابق یہ صفات (اُس میں پہلے سے ہیں اور اسی طرح سے اب تک ہیں۔کیونکہ اللہ جس چیز کا بھی ارادہ کرتا ہے اس کو حاصل کر لیتا ہے۔اب تمہارے نزدیک قرآن میں کوئی اختلاف نہ رہے کیونکہ ہر آیت اللہ کی طرف سے ہے۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ ابو عبد الله (امام بخاریؒ) نے کہا: مجھ سے یوسف بن عَدِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عدی نے یہ بیان کیا کہ ہمیں عبید اللہ بن عمرو نے