صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 424 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 424

صحیح البخاری جلد ۱۲ م ۴۲ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي نہیں بلکہ سورۃ انفال کا تتمہ ہے اور اس لئے اس میں الگ بسم اللہ نہیں لکھی گئی۔چنانچہ ابو داؤد میں ابن عباس سے روایت ہے کہ اِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَعْرِفُ فَضْلَ السُّورَةِ حَتَّى يَنْزِلُ عَلَيْهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ (ابو داؤد کتاب الصلوة باب من جهر ببسم اللہ) یعنی جب ایک سورۃ کے بعد دوسری سورۃ نازل ہوتی تھی تو پہلے بسم اللہ نازل ہوا کرتی تھی اور بسم اللہ کے بغیر رسول کریم صلعم کسی وحی کو دوسری سورۃ قرار نہیں دیا کرتے تھے۔حاکم نے مستدرک میں بھی یہ روایت بیان کی ہے۔(ابن کثیر ) اس حدیث سے ظاہر ہے کہ ہر نئی سورۃ سے پہلے بسم اللہ نازل ہوتی تھی اور پہلی سورۃ کا اختتام ہی تب سمجھا جاتا تھا۔جب بسم اللہ کے نزول سے دوسری سورۃ کے ابتداء کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔پس جبکہ براءة سے پہلے بسم اللہ نازل نہیں ہوئی یا یوں کہو کہ انفال کے بعد بسم اللہ نازل ہو کر براءة کی آیات نازل نہیں ہوئیں تو یقینا وہ الگ سورۃ نہیں ہے بلکہ انفال کا حصہ ہی ہے۔اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ تمام سورتوں سے پہلے جو بسم اللہ درج ہے وہ وحی الہی سے ہے اور قرآن کریم کا حصہ ہے زائد نہیں۔بسم اللہ کے متعلق بعض علماء نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ہر سورۃ کا حصہ بسم اللہ نہیں بلکہ صرف سورۃ فاتحہ کا حصہ بسم اللہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ کسی سورۃ کا حصہ بھی بسم اللہ نہیں ہے لیکن یہ خیال درست نہیں۔اوّل تو مذکورہ بالا حدیث ہی اس خیال کو رڈ کرتی ہے دوسرے بہت سی اور احادیث ہیں جن میں بسم اللہ کو رسول کریم صلعم نے سورتوں کا جزو قرار دیا ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ الفاتحہ، زیر آیت بسم اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ جلد اول صفحہ ۱۳،۱۲) باب ۱ ٤٩٥٣ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۴۹۵۳: یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ۔(بن سعد) نے ہمیں بتایا، انہوں نے عقیل سے، و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔نیز سعید بن بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ أَخْبَرَنَا مروان نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن عبد العزیز