صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 423
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۲۳ ۶۵ - كتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي ٩٦ سُورَةُ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ وَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ يَحْيَى اور قتیبہ نے کہا: ہمیں حماد بن زید) نے بتایا، بْنِ عَتِيقٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ اكْتُبْ فِي انہوں نے يحي بن عتیق سے، یچی نے حسن الْمُصْحَفِ فِي أَوَّلِ الْإِمَامِ بِسْمِ اللهِ (بصری) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مصحف الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَاجْعَلْ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ میں سورہ فاتحہ سے پہلے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ خَطَّا ۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ نَادِيَة (العلق : ۱۸) لکھو اور پھر دو سورتوں کے درمیان ایک لکیر ڈالو عَشِيرَتَهُ، الزبانية (العلق : ۱۹) الْمَلَائِكَةَ اور مجاہد نے کہا: نادیہ کے معنی ہیں اس کا خاندان۔ وَقَالَ مَعْمَرُ الرَّجْعَى (العلق : ٩) الْمَرْجِعُ الزبانية کے معنی ہیں ملائکہ ۔ اور معمر نے کہا: الرجعی لَنَسْفَعَنْ قَالَ لَتَأْخُذَنْ وَلَنَسْفَعَنْ بِالنُّونِ کے معنی ہیں لوٹنا۔ لَنَسْفَعَن کے معنی ہیں انہوں وَهِيَ الْخَفِيفَةُ سَفَعْتُ بِيَدِهِ أَخَذْتُ نے کہا: ہم ضرور پکڑیں گے اور لَنَسْفَعَن میں جو ”ن“ ہے وہ خفیفہ ہے۔ کہتے ہیں) سَفَعْتُ بِيَدِهِ یعنی میں نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ تشریح : سورة العلق : یہ پہلی سورۃ ہے جو قرآنی وحی کی صورت میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلمپر غار حرا میں نازل ہوئی۔ اس میں آپ کو اپنے رب کے نام سے قراءت کا حکم دیا گیا اس رب کا جو ہر چیز کا خالق ہے۔ رَبُّكَ الأكرم کہہ کر بتایا کہ تیرا رب سب سے معزز ہے اور اس میں یہ پیشگوئی مضمر تھی کہ اس وحی کے نتیجے میں تجھے دائمی عزت ملے گی اور قراءت کے لفظ سے یہ پیشگوئی فرمائی کہ انسانی ترقی کا راز پڑھنے اور لکھنے میں ہے اگر قراءت اور تحریر کا ملکہ انسان کو عطا نہ کیا جاتا تو کوئی ترقی ممکن نہیں تھی آج کا زمانہ اس پر شاہد ناطق ہے۔ اور اس پیشگوئی کی عظمت شان اور بھی بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ یہ کلام ایک امی پر نازل ہوا۔ قَالَ اكْتُبْ فِي الْمُصْحَفِ فِي أَوَّلِ الْإِمَامِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ : حسن بصری کہتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ کے شروع میں بسم اللہ لکھو لیکن آگے دوسری سورتوں کے شروع میں ایک خط علامتِ فاصلہ کے طور پر لکھو۔ علامہ سہیلی نے حسن بصری کے اس قول کو رڈ کیا ہے اور اسے شاذ قرار دیا ہے۔ کیونکہ تمام صحابہ سورۃ کے شروع میں بسم اللہ لکھتے تھے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۳۰۲) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن کریم کی سب سورتیں بسید الله الرّحمنِ الرَّحِيمِ سے شروع ہوتی ہیں۔ سوائے سورۃ براءة کے مگر اس کے بارہ میں زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ وہ الگ سورۃ