صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 422
صحیح البخاری جلد ۱۲ نیز فرمایا: ۴۲۲ ۶۵ - کتاب التفسير و التين ”زیتون کی شاخ حضرت نوح کے واقعہ کو یاد دلاتی ہے اور وہ بھی رحم اور امن کے واقعہ کو۔چنانچہ بائیبل میں لکھا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی جب جو دی یعنی اراراط پر پہنچی تو حضرت نوح نے مختلف پرندوں کو چھوڑا تا کہ وہ پتہ لے کر آئیں کہ کہیں زمین بھی نظر آتی ہے یا نہیں۔آخر میں انہوں نے کبوتری چھوڑی جب وہ واپس آئی تو زیتون کی ایک تازہ پتی اس کے منہ میں تھی۔جس سے حضرت نوح نے سمجھ لیا کہ اب خدا کی طرف سے فضل نازل ہو گیا ہے۔“ (تفسیر صغیر سورۃ التین، حاشیہ آیت نمبر ۲) فما يكذبك: فرماتا ہے : فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدين O (التين: ۸) پس اس (حقیقت کے کھل جانے) کے بعد کونسی چیز تجھ کو جزا سزا کے معاملے میں جھٹلاتی ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: معنے دین کے جزا سزا کے ہیں۔سورہ شریفہ بہت چھوٹی ہے۔مگر ایک ایک لفظ سے اشارات یہ پائے جاتے ہیں کہ انتقال نبوت بنی اسرائیل سے بنی اسمعیل میں جو ہوا۔تو حق اور حکمت کے ساتھ ہوا۔بے وجہ نہیں ہوا۔طبیب نے نسخہ تبدیل کیا تو سوچ سمجھ کر ہی کیا۔فَمَا يُكَذِّبُكَ اب اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیری تکذیب سے ان کو کیا فائدہ جبکہ جزا سزا، یا یوں کہو کہ مرض کی دوا موافق طبیعت کے ملی ہے۔حاکموں پر جو حاکم ہوتا ہے۔اس کا یہی کام ہوتا ہے کہ حکمت اور مصلحت کی بناء پر ماتحت حکومتوں کو بدل دے۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحہ ۴۱۹)