صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 421
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۲۱ ۶۵ - کتاب التفسير والتين دیتے ہوئے انسان کی آخری ارتقائی منزلوں تک پہنچایا ہے لیکن جو بد نصیب اس سے استفادہ نہ کرے اسے ہم نچلے درجہ کی طرف لوٹنے والوں میں سب سے نیچے لوٹا دیا کرتے ہیں۔“ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع، تعارف سورۃ التین صفحه ۱۱۸۸) التين والزيتون: حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ وَطُورِ سِينِينَ - وَهُذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ - قسم انجیر کی اور زیتون کی۔ اور طور سینین کی اور اس امن والے شہر کی۔ ان تین مقامات کی خصوصیت نہایت غور کے قابل ہے۔ عہد عتیق میں اس تخصیص کی وجہ مفصل مذکور ہوئی ہے۔ قرآن کا طرز ہے کہ جس بات کی تفصیل عہد عتیق و جدید میں نہ ہو اس کی تفصیل کرتا ہے۔ اور جس کا بیان وہاں مفصل ہو اس کی طرف مجمل اشارہ کرتا ہے۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “ حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۴۱۰) انجیر کے لفظ سے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے۔ جو یہ ہے کہ انسانی فطرت کو اعلیٰ درجہ کا پیدا کیا گیا ہے۔ کیونکہ آدم کے متعلق بائیبل میں لکھا ہے کہ خدا نے اس کو اپنی صورت پر پیدا کیا (پیدائش باب ۱) اور قرآن مجید میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو اپنا خلیفہ بنایا (بقرہ ع۴) پس دونوں کتابوں کے اتفاق سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کی اولاد آدم کی صفات کو لے کر نیک پیدا ہو گی اور اس کی پیدائش میں بدی کی جڑ نہیں آئے گی بلکہ نیکی کی جڑ آئے گی اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اس جگہ انجیر کو شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بائیبل میں لکھا ہے کہ جب آدم اور حوا کو یہ احساس ہوا کہ ہم سے کوئی خدا کی نافرمانی والا فعل سرزد ہوا ہے تو حوا میں اور آدم میں احساس ندامت پیدا ہوا اور انجیر کے پتوں سے انہوں نے اپنے جسم کو ڈھانکنا شروع کیا ( پیدائش باب ۳) لیکن قرآن کہتا ہے کہ یہ بات غلط ہے آدم اور حواسے کوئی حقیقی گناہ سرزد نہیں ہوا۔ بلکہ محض ایک بھول ہوئی تھی جو گناہ نہیں ہوتی اور ان کے دل میں اس کے بار بار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔“ (تفسیر صغیر سورۃ التین، حاشیه آیت نمبر ۲)