صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 420
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۲۰ ٩٥ سُورَةُ وَالتِّينِ ۶۵ - کتاب التفسير والتين وَقَالَ مُجَاهِدٌ هُوَ التِّينُ وَالزَّيْتُونُ اور مجاہد نے کہا: الدین سے یہ انجیر اور الزّيْتُون الَّذِي يَأْكُلُ النَّاسُ يُقَالُ فَمَا سے یہ زیتون مراد ہے جو لوگ کھاتے ہیں۔فباً يُكَذِّبُكَ (التين: ٨) فَمَا الَّذِي يُكَذِّبُكَ يُكَذِّبُكَ کا یہ مفہوم بیان کیا جاتا ہے کہ کونسی چیز بِأَنَّ النَّاسَ يُدَانُونَ بِأَعْمَالِهِمْ كَأَنَّهُ لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دیے جانے کے قَالَ وَمَنْ يَقْدِرُ عَلَى تَكْذِيبِكَ معاملے میں آپ کو جھٹلارہی ہے گویا اللہ تعالیٰ نے یوں کہا: تمہیں اس بات میں کون جھٹلا سکتا بِالثَّوَابِ وَالْعِقَابِ۔باب ۱ ہے کہ جزا بھی ہو گی اور سزا بھی۔٤٩٥٢ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ :۴۹۵۲ حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ قَالَ شعبہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: مجھے عدی نے سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ بتایا، عدی نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں في تھے اور آپ نے عشاء کے وقت دو رکعتوں میں سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي إِحْدَى سے ایک رکعت میں سورۃ وَالتَّيْنِ وَالزَّيْتُونِ الرَّكْعَتَيْنِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ تَقويم پڑھی۔تقویم کے معنی ہیں پیدائش۔(التين: ٥) الْخَلْقِ۔أطرافه: ٧٦٧، ٧٦٩، ٧٥٤٦ - يح : سُورَةُ وَاليين : حضر خليفة البت الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں ایک لامتناہی ارتقاء کی خبر دی گئی ہے اس میں تین اور زیتون کو گواہ ٹھہرایا گیا یعنی آدم اور نوح علیہما الصلوۃ والسلام کو اور طور سینین یعنی حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پہاڑ کو جس پر اللہ تعالیٰ کی تجلی ہوئی اور پھر اس بلد آمین کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آماجگاہ تھا۔اس تدریجی روحانی ترقی کے ساتھ یہ اعلان فرما دیا کہ اسی طرح ہم نے انسان کو ادفی حالتوں سے ترقی