صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 418 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 418

۴۱۸ صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الم نشرح لك وِزْرَكَ : وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (الم نشرح:۳) اور تجھ سے ہم نے تیرا بوجھ اتار نہیں دیا۔(ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع ) علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں وِزْرَک سے مراد آپ کی قوم کے گناہ ہیں اور اس کی نسبت آپ کی طرف اس لیے کی گئی ہے کہ آپ کا دل ہمیشہ ان کی مغفرت اور اصلاح کے لیے بے چین رہتا تھا۔(عمدۃ القاری، جزء ۱۹ صفحه ۳۰۱،۳۰۰) اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا : عبد بن حمید نے قتادہ کے واسطہ سے حضرت ابن مسعودؓ کی ایک روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس آیت کے ساتھ یہ خوشخبری دی کہ ایک تنگی دو آسائشوں پر غالب نہیں آسکتی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۱۰) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک روایت میں آیا کہ لَنْ يَغْلِبَ عُسر يُسْرین یعنی ایک سختی دو آسانیوں پر کبھی غالب نہیں آئے گی۔اگرچہ عُسر کا لفظ بھی دو بار ہے۔اور ٹیسر کا لفظ بھی دوبار ہے۔مگر العشر معرف باللام مکرر ہے۔اور وہ معترف ہونے کی وجہ سے ایک ہی ہے اور ٹیسر نکرہ دوبار ہے۔اس لئے کیسر الگ الگ مُراد ہوں گے۔66 ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۴۰۹،۴۰۸) فَانصَبُ: فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَب (الم نشرح : ۸) پس جب تو فارغ ہو جائے تو کمر ہمت کس لے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع) ”یہاں ایک عجیب بات بیان کی گئی ہے بظاہر فراغت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ مشکل دور ہو گئی اور کام ختم ہو گیا مگر اللہ تعالی فرماتا ہے جب تو فارغ ہو جائے تو پھر محنت میں مشغول ہو جا۔پس سوال پیدا ہو تا ہے کہ جب فارغ ہونے کے بعد بھی محنت میں ہی مشغول رہنا ہے تو پھر فراغت کیسی ہوئی ؟ در حقیقت اس میں اسلام کی ترقی کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ کتنا بلند مقصد ہے جو ہم نے اپنے رسول کے سامنے رکھا ہے۔بعض دفعہ دنیا میں یکدم کوئی تغیر پیدا ہو جاتا ہے مگر وہ دیر پا نہیں ہو تا بلکہ جلد ہی روبہ زوال ہو جاتا ہے لیکن بعض تغیرات ایسے ہوتے ہیں جو گو تدریجاً پید اہوتے ہیں مگر ایک لمبے عرصہ تک دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے کہ تیری ترقی کو تدریجی ہوگی