صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 417
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۱۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الم نشرح لك ٩٤ سُورَةُ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے وَقَالَ مُجَاهِدٌ : وزُرَكَ (الم نشرح:۳) في اور مجاہد نے کہا: وزرک سے مراد ہے وہ باتیں جو الْجَاهِلِيَّةِ، انْقَضَ (الم نشرح : ٤) أَثْقَلَ، زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتی تھیں۔انقض کے معنی مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الم نشرح : ٧،٦) قَالَ ہیں بوجھل کر دیا۔مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ابن عیینہ نے ابْنُ عُيَيْنَةَ أَيْ إِنَّ مَعَ ذَلِكَ الْعُسْرِ کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس تنگی کے ساتھ ایک يُسْرًا آخَرَ كَقَوْلِهِ هَلْ تَرَبَّصُونَ بنا اور آسانی بھی ہوتی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا یعنی إلا إحدَى الْحُسْنَيَيْنِ (التوبة: ٥٢) تم دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کا ہی ہمارے لیے انتظار کر رہے ہو۔اور (حدیث میں بھی آتا وَلَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ ہے کہ ایک تنگی دو آسائشوں پر غالب نہیں آ فانصب (الم نشرح : ۸) في حَاجَتِكَ سکتی۔اور مجاہد نے کہا: فانصب سے یہ مراد ہے کہ إِلَى رَبِّكَ۔وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَلَمْ اپنے رب سے اپنی حاجت براری کرانے میں محنت نَشْرَحْ لَكَ صَدرَكَ (الم نشرح : ٢) شَرَحَ برداشت کرو۔اور حضرت ابن عباس سے مذکور ہے كه الم نشرح لك صدرك سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے آپ کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیا۔اللهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ۔تشريح : سُورَة الم نشرح: حضرت خلیفة السح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سے ماقبل کی سورۃ سورۃ الضحیٰ میں ظاہری و جسمانی انعامات کا ذکر تھا، اور اس سورہ شریفہ میں آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو روحانی نعمتیں ہوئیں ان کا ذکر ہے۔شرح صدر ایک کشفی کیفیت تھی جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر وارد ہوئی تھی جبکہ آپ کی عمر دس سال سے کچھ اوپر تھی اور بعد میں نبوت کے زمانہ میں بھی دوبارہ و کشفی اور روحانی معاملہ شرح صدر کا آپ سے کیا گیا۔ظاہری اثر اس کا آپ پر یہ تھا کہ جو وسیع الحوصلگی آپؐ کی تھی، اس کی نظیر اوروں میں کیا اولو العزم نبیوں میں بھی پائی نہیں جاتی۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۴۰۷)