صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 414
صحیح البخاری جلد ۱۲ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۴۱۴ ٩٣ سُورَةُ وَالضُّحى ۶۵ - کتاب التفسير و الضحى اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے وَقَالَ مُجَاهِدٌ : إِذَا سجى (الضحی (۳) اور مجاہد نے کہا: اذا سجی کے معنی ہیں جب اسْتَوَى وَقَالَ غَيْرُهُ سَجَى أَظْلَمَ پورے طور پر چھا جائے اور ان کے سوا اوروں وَسَكَنَ۔عَابِلًا (الضحى: ٩) ذُو عِیال نے کہا: سجی کے معنی ہیں جب تاریک ہو جائے اور بالکل سکون طاری ہو جائے۔عابلا کے معنی عِيَالٍ۔ہیں عیال دار یا محتاج۔تشریح : سُورَةُ وَالضلی: اس سورۃ میں سورج اور روش دن کا ذکر کر کے یہ امید دلائی گئی ہے کہ جس طرح یہ دن روشن ہے اسی طرح ہر تاریکی کے بعد ایک نیا دن طلوع ہو گا۔جس سے یہ بتایا ہے کہ زندگی انہی نشیب و فراز کا نام ہے۔پس اصل کامیاب وہ ہے جس کا ہر آنے والا وقت پہلے سے بہتر ہو اور یہ ترقی اللہ تعالٰی کی طرف سے عطا کر وہ نعمتوں کو اس کے بندوں کی بھلائی میں خرچ کرنے سے ملتی ہے۔پس اس میں کبھی بھی بخل نہیں کرنا چاہیئے۔ابو عبیدہ نے کا ہلا کے معنی عیال دار کئے ہیں۔اور فراء نے اس کے معنی محتاج کے کئے ہیں۔امام ابن حجر کہتے ہیں اعلی کے معنی مال کی کثرت نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اُسے وہ دیا جس سے وہ راضی ہو گیا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۰۶) بَاب ١ : مَاوَدَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلى (الضحى: ٤) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) کہ نہ تیرے رب نے تجھے ترک کیا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے ٤٩٥٠ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۴۹۵۰: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ نے ہمیں بتایا، کہ اسود بن قیس نے ہم سے بیان قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ رَضِيَ کیا ، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جندب بن اللهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّی سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے : رسول اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ صلى الله علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ دو یا تین ثَلَاثًا فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ راتیں (تہجد کے لئے) نہیں اٹھے ایک عورت آئی إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ وہ کہنے لگی : محمد ؟! میں امید کرتی ہوں کہ تمہارے