صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 413
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۱۳ ۶۵ - كتاب التفسیر / واليل اذا یغشی اہلِ اسلام کو کہاں تک ترقی کرنے اور عصیانِ الہی سے بچنے کی سعی کرنی چاہیئے۔جن نا فہم لوگوں نے کہا ہے کہ گناہ کو مسلمان ایک خفیف حرکت اور وہ بھی خدا کی طرف سے مان کر گناہ میں بے باک ہیں۔وہ سوچیں کہ ان کی بات کچھ بھی درست ہے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۳ صفحه ۲۳۹) نیز فرمایا: تقدیر کے معنے حسب لغت عرب اور محاورہ قرآن کے کسی چیز کا اندازہ اور مقدار ٹھہرانا ہیں، دیکھو آیات مرقومہ الذیل : وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (الفرقان:۳) اور بنائی ہر چیز اور پھر ٹھیک کیا اس کو ماپ کر۔اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَهُ بقدره ( القمر :۵۰) وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بمقدار (الرعد:9) خدا تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو موجودات سے ایک خلقت (نیچر ) اور اندازے پر بنایا ہے۔اور جیسا اس کی ترکیب اور ہیئت کذائی کا مقتضاء ہو۔لابد ویسے افعال اور آثار اس سے سر زد ہوتے ہیں۔گویا جیسے اس کے مقدمات ہوں گے لا محالہ ویسا نتیجہ اس سے ظہور پذیر ہو گا۔ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص ان خدائی حدوں کو توڑ سکے اور ان اصلی خواص کو جو قدرت نے کسی چیز میں خلق کیے ہیں۔بدوں ان اسباب کے جن کو خالق نے بمقتضائے فطرت ان کا سبب معطل قرار دیا ہو۔کوئی شخص کسی اور طرح پر باطل کر دے سلسلہ کائنات کے خالق کا کلام اس مطلب و مقام میں فرماتا ہے: فكن تَجِدَ لِسُنّتِ اللهِ تَبْدِيلاً وَ لَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَحويلاه (فاطر: ۴۴) مثلاً توحید اور عبادت اور طاعت اور اتفاق اور صحیح کوشش اور چستی کو جن ثمرات اور پھلوں کا درخت بنایا ہے۔ممکن نہیں کہ وہی پھل اور وہی ثمرات شرک اور ترک عبادت اور بغاوت اور باہمی نفاق اور تفرق اور غلط کوشش اور سستی سے حاصل ہو سکیں۔جن باتوں کے لیے تریاق کا استعمال ہوتا ہے ان باتوں کے لیے زہر مار سے کام نکلنا دشوار کیا محال ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۳ صفحه ۲۳۹،۲۳۸)