صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 415 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 415

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۱۵ ۶۵ - کتاب التفسير / والضحى تَرَكَكَ لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ شیطان نے (نعوذ باللہ) تمہیں چھوڑ دیا ہو گا۔میں ثَلَاثًا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحى 10 نے اس کو نہیں دیکھا کہ وہ دو یا تین رات سے اليل إذا سجى مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلی تمہارے پاس آیا ہو۔تب اللہ عزوجل نے یہ (الضحى: ٢-٤) آیات نازل کیں۔یعنی چاشت کی قسم ہے اور رات أطرافه: ١١٢٤، ۱۱۲٥، 4951، 4983۔کی قسم ہے جب وہ سکون کی حالت میں ہو جائے تیرے رب نے تجھے نہیں چھوڑا اور نہ ہی تجھے سے ناراض ہوا۔باب : مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى (الضحى : ٤ ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا) کہ نہ تیرے رب نے تجھے ترک کیا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے تُقْرَأُ بِالتَّشْدِيدِ وَالتَّخْفِيفِ بِمَعْنَى ( وَذَعَكَ ) دال کی تشدید سے بھی پڑھا جاتا ہے اور وَاحِدٍ مَا تَرَكَكَ رَبُّكَ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ تخفیف سے بھی معنی ایک ہی ہیں۔یعنی تیرے مَا تَرَكَكَ وَمَا أَبْغَضَكَ۔رب نے تجھے نہیں چھوڑا اور حضرت ابن عباس نے کہا: اس کے یہ معنی ہیں کہ نہ اس نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے۔٤٩٥١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۴۹۵۱: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا جعفر غندر نے ہمیں بتایا، شعبہ نے ہم سے بیان شُعْبَةُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ کیا انہوں نے اسود بن قیس سے روایت کی۔انہوں جُنْدبًا الْبَجَلِيَّ قَالَتْ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ نے کہا: میں نے جندب بجلی سے سنا کہ ایک عورت اللهِ مَا أَرَى صَاحِبَكَ إِلَّا أَبْطَأَكَ فَنَزَلَتْ کہنے لگی: رسول اللہ ! میں بھتی ہوں کہ تیرے دوست مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى (الضحى : ٤ ) نے تیرے پاس آنے میں دیر کر دی ہے۔تو یہ آیت نازل ہوئی کہ نہ تیرے رب نے تجھے ترک أطرافه: ١١٢٤، ١١٢٥، ٤٩٥٠ ، ٤٩٨٣۔کیا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے۔