صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 412 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 412

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۱۴ ۶۵ - كتاب التفسير / واليل اذا يغشى حضرت سید زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قضاء و قدر کیا ہے۔ ایک سلسلہ علت و معلول ہے۔ جس کے دائرہ اثر سے کوئی وجود باہر نہیں۔ مَا مِنْ نَّفْسٍ مَّنْفُوسَةٍ إِلَّا كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَإِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً یه نوشته شقاء و سعادت بھی اسی سلسلہ علت و معلول کے تحت روز اول سے ہر ایک انسان کے لئے ثبت ہو چکا ہے اور علم الہی احاطہ کر چکا ہے کہ فلاں اس کے احکام کی خلاف ورزی کر کے بد بخت ہو گا اور فلاں اطاعت کی وجہ سے نیک بخت۔ اس بارہ میں صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، انسان کو نہیں۔ اس لئے اس کا اپنے متعلق یہ فیصلہ کرنا کہ چونکہ وہ بد بخت از لی اور جہنمی ہے ، اسے بدعملی سے باز نہیں آنا چاہیے۔ اس کی بی نطق درست نہیں۔ اگر بالفرض اس کا یہ قیاس اپنے متعلق صحیح بھی ہو تو اس کو توبہ کر کے نیک عمل بجالانے چاہئیں، نہ کہ اپنی بد عملی پر اصرار “ صحیح بخاری ترجمه و شرح كتاب الجنائز، باب موعظة المحدث عند القبر ۔۔ جلد دوم صفحہ ۷۴۱) حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام تقدیر کے مسئلے پر یقین دلا کر اہل اسلام کو اس بات پر ابھارتا ہے کہ بُرے کاموں کے نزدیک مت جاؤ، بُرے بیج بڑا پھل لاتے ہیں۔ آرام و آسودگی کے سامان مہیا کرو، بے دل مت ہو، کیونکہ ہر ایک چیز کا اندازہ خدا کی درگاہ سے معین ہو چکا ہے۔ نقصان کے اندازے والی چیزیں نافع نہ ہوں گی، اور منافع کی مثمر اشیاء دکھوں کی موجب نہ ہوں گی۔ ہر ایک چیز اپنی فطرت پر ضرور قائم ہے اور تمہارا ہر فعل وجوبا وہی نتیجہ دے گا، جو اسکی ترکیب کا مقتضاء ہے۔ آدمی کے اعمال بد اور افعالِ مکروہ سے آدمی پر وبال آتا ہے۔ جب ہر ایک تکلیف کا سر چشمہ گناہ ٹھہرا، جب ہر ایک گناہ کا نتیجہ تکلیف ٹھہری تو منصفو! بے جا تعجب میں ہلاک نہ ہونے والو، قیامت میں نجات کے امید وارو، راستی پسند و، سوچو اور اندازہ کرو کہ حسب تعلیم قرآن حضرت انسان کو گناہ سے کیسی نفرت ضرور ہے، اور آدمی کو خدا کی نافرمانی سے بچنا کیسا لابد ہوا بھلائی کے لینے اور برائی سے بچنے کیلئے مسلمانوں، قرآن کے ماننے والوں کو کیسی تاکید ہوئی۔ جب ہر ایک منزل اور مصیبت گناہ کا نتیجہ ہوا۔ تو