صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 411 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 411

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۱۱ ۶۵ - كتاب التفسير / واليل اذا يغشى عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ شعبہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے اعمش سے روایت عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ کی، انہوں نے کہا: میں نے سعد بن عبیدہ سے سناء السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انہوں نے ابوعبد الرحمن سلمی سے روایت کی، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَأَخَذَ شَيْئًا فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے الْأَرْضَ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا میں تھے۔ آپ نے ایک چیز لی اور اس سے زمین کو کریدنا شروع کیا اور آپؐ نے فرمایا: تم میں سے وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ کوئی بھی ایسا نہیں کہ جس کا ٹھکانا آگ میں یا جس کا مِنَ الْجَنَّةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا ٹھکانا جنت میں نہ لکھ دیا گیا ہو۔ صحابہ نے کہا: یا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ قَالَ رسول اللہ ! کیا ہم اپنے اس نوشتہ پر اعتماد نہ کر اعْمَلُوا فَكُلِّ مُّيَسَّرْ لِمَا خُلِقَ لَهُ أَمَّا بیٹھیں اور عمل چھوڑ دیں۔ آپ نے فرمایا عمل کرو مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ کیونکہ ہر ایک کو اس کام کے لئے توفیق دی جائے أَهْلِ السَّعَادَةِ وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ گی جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا۔ جو اہل سعادت الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ ثُمَّ سے ہو تو اس کو اہل سعادت کے کام کی توفیق دی قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ جائے گی اور جو اہل شقاوت سے ہوا تو اس کو اہل بِالْحُسْنَى (اليل: ٧،٦) الْآيَةَ۔ شقاوت کے کاموں کی توفیق دی جائے گی۔ پھر آپ نے یہ آیات پڑھیں۔ یعنی پس جس نے (خدا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔ اور نیک بات کی تصدیق کی۔ أطرافه: ١٣٦٢، ٤٩٤٥ ، ٤٩٤٦ ، ٤٩٤٧ ، ٤٩٤٨ ، ٦٢١٧ ، ٦٦٠٥، ٧٥٥٢- تشریح : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقى (اليل :۲) پس جس نے (خداکی راہ میں دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔ ان ابواب کے تحت احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو انسان کے انجام کی طرف توجہ دلائی ہے۔ نیز قضاء و قدر کا مسئلہ نہایت عمدگی سے واضح فرمایا ہے کہ جس طرح یہ تقدیر ہے کہ بد بخت جہنم میں جائے گا۔ اسی طرح یہ بھی تقدیر ہے کہ اس کی بد بختی کا سبب اس کی بد عملی ہے۔ گویا بد عملی کی بد بختی جہنم کا موجب ہے۔