صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 409
حیح البخاری جلد ۱۲ ۴۰۹ ۶۵ - کتاب التفسیر / واليل اذا یغشی۔عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ کہ وکیع نے ہمیں بتایا، انہوں نے اعمش سے، اعمش عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيِّ رَضِيَ نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابو عبد الرحمن سے، اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ بیٹھے تھے آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ایسا مِنَ نہیں جس کا ٹھکانا جنت میں یا جس کا ٹھکانا آگ میں الْجَنَّةِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ فَقُلْنَا يَا نہ لکھ دیا گیا ہو۔ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا ہم اس رَسُولَ اللهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ قَالَ لَا ، اعْمَلُوا پر بھروسہ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، عمل کئے فَكُلُّ مُيَسَّرْ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطى جاؤ کیونکہ ہر ایک کے لئے آسانی کی گئی ہے۔پھر وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُيَسِرُ آپ نے یہ آیات پڑھیں۔یعنی پس جس نے (خدا اليُسرى إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسرُهُ لِلْعُسرای کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔اور نیک بات کی (اليل: ٦-١١) تصدیق کی۔اُسے تو ہم ضرور آسانی (کے مواقع) بہم پہنچائیں گے۔اور ایسا (شخص) جس نے بخل سے کام لیا اور بے پروائی کا اظہار کیا۔اور نیک بات کو جھٹلایا۔اُسے ہم تکلیف کا سامان بہم پہنچائیں گے۔أطرافه ،١٣٦٢، ٤٩٤٥ ٤٩٤٦ ٤٩٤٨ ٤٩٤٩ ٦٢١٧، ٦٦٠٥، ٧٥٥٢۔باب ٦ : وَكَذَّبَ بِالْحُسْنٰى (اليل: ١٠) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور نیک بات کو جھٹلایا ٤٩٤٨ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي :۴۹۴۸ عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ جرير بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ منصور سے منصور نے سعد بن عبیدہ سے ، سعد نے السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيّ رَضِيَ الله عَنْهُ ابو عبد الرحمن سلمی سے ، ابو عبد الرحمن نے حضرت قَالَ كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ على رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم