صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 406
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۰۶ ۶۵ - کتاب التفسیر / واليل اذا یغشی معمولی باتوں پر آپس میں لڑا نہ کرو۔اس فرق کی وجہ دراصل یہی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا عبد اللہ بن مسعودؓ گڈریا ہیں اور ان کا اور لہجہ ہے اس لئے اُن کے لیجے کے مطابق جو قراءت تھی وہ اُنہیں پڑھائی۔۔۔اس قسم کے چھوٹے چھوٹے فرق ہیں جو مختلف قراء توں کی وجہ سے پیدا ہو گئے تھے مگر ان کا نفس مضمون پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔۔۔ابن اُم عبد کا یہ واقعہ بھی اسی قسم کے قراءت کے اختلاف کے متعلق ہے۔عربی زبان میں ما کا استعمال کئی معنوں میں ہوتا ہے۔مانافیہ بھی ہے اور مصدر یہ بھی اور مَا مَن کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔چونکہ جب مصدری معنے اور من کے معنے دونوں ہی مراد ہوں تو ایسے مقام پر من کا استعمال کرنا یا مصدر کا استعمال کرنا مفید نہیں ہو سکتا کیونکہ مصدر ایک معنے دے گا اور من دوسرے معنے دے گا۔دونوں معنے کسی ایک طریق کے استعمال سے ظاہر نہ ہوں گے۔مگر چونکہ ایسے کئی مواقع قرآن کریم میں آتے ہیں جب کہ مصدری معنے اور یمن کے معنے دونوں ہی بتانے مقصود ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں ایسے مواقع پر ما کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تا یہ دونوں مفہوم ظاہر ہوں۔مگر بعض عرب قبائل ما کے مصدری معنے تو کرتے ہیں لیکن ما کا استعمال من کی جگہ ناجائز سمجھتے ہیں اس لئے اس استعمال سے ان کے لئے مشکل پیش آجاتی تھی۔پس اس کو دُور کرنے کے لئے وَالله كَرِ والا نقی کی قراءت کی بھی اجازت دے دی گئی۔جو جملہ ایک حد تک ما کا مفہوم ادا کر دیتا ہے لیکن چونکہ ویسا مکمل مفہوم ادا نہیں کرتا جیسے تھا اس لئے اصل قرآنی عبارت کے طور پر اسے استعمال نہیں کیا گیا صرف عارضی قراءت کے طور پر اس کا استعمال جائز رکھا گیا۔" (تفسیر کبیر ، سورۃ الیل، زیر آیت ۴، جلد ۹ صفحه ۵۰ تا ۵۲) بَاب ٣ : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى (اليل : ٦) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) پس جس نے (خدا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا ٤٩٤٥: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۴۹۴۵: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْن عیینہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے اعمش سے، اعمش