صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 405 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 405

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۰۵ ۶۵ - کتاب التفسیر / واليل اذا یغشی يَقْرَأُ هَكَذَا وَهَؤُلَاءِ يُرِيدُونَنِي عَلَى طرف اشارہ کیا۔حضرت ابو دردا نے کہا: تم نے أَنْ أَقْرَأَ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى عبد الله بن مسعودؓ کو وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى کس طرح پڑھتے ہوئے سنا؟ علقمہ نے کہا: (یوں پڑھتے تھے) (اليل:٤) وَاللَّهِ لَا أُتَابِعُهُمْ۔وَالذَّكَرِ وَالْأُنقی۔حضرت ابو درداء نے کہا: میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے سنا اور یہ لوگ مجھ سے یہ چاہتے ہیں کہ میں یوں پڑھوں: وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى اللہ کی قسم میں تو ان کی پیروی نہیں کرنے کا۔أطرافه ۳۲۸۷، ۳۷۲، ۳۷۳، ٣٧۶۱، ٤٩٤، ٦٢٧٨- يح۔وَمَا خَلَقَ الذكر والأنثى : قرآن کریم نزول کے وقت مختلف قراء توں میں نازل ہوا۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: إِنَّ القُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ۔بلاشبہ مجھ پر قرآن سات قراء توں میں نازل کیا گیا ہے۔حضرت عثمان نے جمع قرآن کے وقت تدوین کرنے والوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ جہاں تمہیں قراء توں کا اختلاف نظر آئے تو قریش کی زبان کو ترجیح دینا اور یہی آخری صورت قراءت میں اختیار کی گئی۔مذکورہ باب میں اسی اختلاف قراءت کا ذکر ہے جس کے مطابق حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت ابو دردار اس آیت کو و ما خلق کی بجائے وَالذَّكَرِ وَالْأُنقى سے پڑھتے تھے جس میں ما خلق کے معنی مضمر تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " قرآن کریم کا نزول گو حجازی زبان میں ہوا ہے مگر قراء توں میں فرق دوسرے قبائل کے اسلام لانے پر ہوا۔چونکہ بعض دفعہ ایک قبیلہ اپنی زبان کے لحاظ سے دوسرے قبیلہ سے کچھ فرق رکھتا تھا اور یا تو وہ تلفظ صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا تھا یا ان الفاظ کا معنوں کے لحاظ سے فرق ہو جاتا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت بعض اختلافی الفاظ کے لہجہ کے بدلنے یا اس کی جگہ دوسر ا لفظ رکھنے کی اجازت دے دی۔مگر اس کا آیات کے معانی یا ان کے مفہوم پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھابلکہ اگر یہ اجازت نہ دی جاتی تو فرق پڑتا۔۔۔آپ نے فرمایا قرآن کریم سات قراءتوں میں نازل کیا گیا ہے۔تم ان معمولی ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور اس کی جو اُس نے نر اور مادہ پیدا کئے۔“