صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 401 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 401

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۰۱ ۶۵ - كتاب التفسير والشمس وضحها ان آیات میں سورج سے مراد حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور چاند سے مراد آپ کے ظل کامل حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی۔اور قسم ہے چاند کی جب پیروی کرے سورج کی یعنی سورج سے نور حاصل کرے اور پھر سورج کی طرح اس نور کو دوسروں تک پہنچا دے اور قسم ہے دن کی جب سورج کی صفائی دکھاوے اور راہوں کو نمایاں کرے اور قسم ہے رات کی جب اندھیر اکرے اور اپنے پر دہ تاریکی میں سب کو لے لے اور قسم ہے آسمان کی اور اس علت غائی کی جو آسمان کی اس بناء کا موجب ہوئی اور قسم ہے زمین کی اور اس علت غائی کی جو زمین کے اس قسم کے فرش کا موجب ہوئی اور قسم ہے نفس کی اور نفس کے اس کمال کی جس نے ان سب چیزوں کے ساتھ اس کو برابر کر دیا۔یعنی وہ کمالات جو متفرق طور پر ان چیزوں میں پائے جاتے ہیں کامل انسان کا نفس ان سب کو اپنے اندر جمع رکھتا ہے اور جیسے یہ تمام چیزیں علیحدہ علیحدہ نوع انسان کی خدمت کر رہی ہیں۔کامل انسان ان تمام خدمات کو اکیلا بجالاتا ہے۔جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں۔اور پھر فرماتا ہے کہ وہ شخص نجات پا گیا اور موت سے بچ گیا جس نے اس طرح پر نفس کو پاک کیا یعنی سورج اور چاند اور زمین وغیرہ کی طرح خدا میں محو ہو کر خلق اللہ کا خادم بنا۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۲۵،۴۲۴) مزید تفصیل کے لیے دیکھئے تو ضیح مرام روحانی خزائن جلد ۳ حاشیه صفحه ۷۸،۷۷۔فالهمها سے مراد ہے اُس نے اُسے نیکی اور بدی کی سمجھ دی۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”خدائے تعالیٰ نے نفس انسان کو پیدا کر کے ظلمت اور نورانیت، ویرانی اور سبزی کی دونوں راہیں اس کے لیے کھول دی ہیں۔جو شخص ظلمت فجور یعنی بدکاری کی راہیں اختیار کرے تو اس کو ان راہوں میں ترقی کے کمال درجہ تک پہنچایا جاتا ہے۔اور اگر پرہیز گاری کا نورانی راستہ اختیار کرتا ہے تو اس نور کو مدد دینے والے الہام اس کو ہوتے ہیں۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۳۹۵)