صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 400
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۰۰ ۶۵ - کتاب التفسير والشمس وضحها دے۔یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ اگر قمر کی جگہ کوئی سا بھی اور ستارہ رکھ دیا جائے تو وہ بھی سورج کی روشنی کو اپنے اندر جذب کر کے دوسروں کی طرف پھینک سکتا ہے ہر ستارہ یہ قابلیت نہیں رکھتا۔اللہ تعالی نے ہمارے نظام شمسی میں صرف قمر میں ہی یہ قابلیت پیدا کی ہے کہ وہ سورج سے اس کی روشنی اخذ کرے اور پھر اسے اپنے اندر جذب کر کے دوسروں کی طرف پھینک کر ان کو منور کر دے۔اسی لئے چاند کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ کسی قسم کی آبادی کے قابل نہیں ہے۔اگر وہ قابل آبادی ہوتا تو اس میں درخت ہوتے ، گھاس ہوتا بڑے بڑے جنگلات ہوتے مگر یہ چیزیں چاند میں نہیں ہیں۔کیونکہ اگر یہ چیزیں ہوتیں تو وہ روشنی کو اپنے اندر جذب کر کے دوسروں کی طرف پھینک نہیں سکتا تھا۔مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے چاند کوری فلیکٹر کے طور پر بنایا ہے اس لئے اُس نے چاند میں ریت کے بڑے بڑے میدان پیدا کر دیتے ہیں جب سورج کی روشنی اُن پر پڑتی ہے تو وہ ریت کے میدان ری فلیکٹر کے طور پر اس کو دنیا پر پھینک دیتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْقَمَرِ ہم تمہارے سامنے ایک ایسے وجود کو پیش کرتے ہیں جو قمری حیثیت رکھتا ہے مگر صرف قمر کے وجود کو نہیں بلکہ قمر کی اس حالت کو جب وہ پوری طرح سورج کے سامنے آکر اس کی ساری روشنی کو اپنے سارے وجود میں لے لیتا ہے۔بے شک قمر میں یہ خوبی ہے کہ وہ روشنی لے کر دوسروں کی طرف پھینک دیتا ہے لیکن روشنی اس کے سامنے نہ ہو گی تو وہ پھینکے گا کیا؟ اس لئے صرف قمر کو شہادت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اذا تلها ہم قمر کو ایسی حالت میں شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جب وہ سورج کے بالکل سامنے آ جاتا ہے۔ذاتی خوبی تو قمر کی یہ ہے کہ وہ سورج کی روشنی کو لے سکتا ہے اور پھر دوسروں کی طرف پھینک سکتا ہے لیکن یہ اس کی ذاتی خوبی اس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک وہ سورج کے سامنے نہ آجائے اگر سورج کے سامنے آجائے تو اس کی یہ خوبی ظاہر ہو جاتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة الشمس، زیر آیت وَالشَّمْسِ وَضُحْهَا وَالْقَمَرِ۔، جلد ۹ صفحه ۱۰-۱۲)