صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 399 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 399

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۹۹ ۶۵ - كتاب التفسير والشمس وضحها وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ ہے، جیسے غلام کو مارا جاتا ہے پھر وہ اسی دن شام أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ النَّبِيُّ کو اس کے ساتھ ہم بستر بھی ہوتا ہے۔ پھر آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ نے ان کو یہ نصیحت کی کہ کسی کے گوز مارنے پر عَمِّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ۔ أطرافه: ٣٣٧٧، ٥٢٠٤، ٦٠٤٢۔ ہنسا نہ کرو اور آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس فعل سے ہنستا کیوں ہے جو خود بھی کرتا ہے۔ اور ابو معاویہ نے (اپنی سند میں یوں ) کہا کہ ہمیں ہشام نے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُنہوں نے حضرت عبد اللہ بن زمعہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر بن عوام کے چچا ابو زمعہ جیسا (شخص)۔ تشریح : سُورَةُ وَالشَّمْسِ وَضُحتها : یہ سورۃ کی ہے۔ اور اس میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اسلام کا سورج آخرین میں پھر طلوع ہو گا اور اس کی روشنی سے اکتساب فیض کرتے ہوئے چودھویں کا وہ سورج آخرین یاد چاند طلوع ہو گا جس کی کرنیں آئندہ تمام زمانوں میں اسلام کی روشنی پھیلاتی جائیں گی۔ سورۃ کے آخر میں حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے اور اس قوم پر عذاب آنے کا ذکر کیا ہے جس سے یہ پیغام دیا ہے کہ قومیں جب اپنے وقت کے نبی کے پیغام کی سد راہ بن جائیں تو ان پر عذاب آیا کرتا ہے۔ ضحها : فرماتا ہے : وَالشَّم اہے : وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا وَالْقَمَرِ إِذَا تَلهَا (الشمس: ۳،۲) میں سورج کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں، اور مھٹی کے وقت کو ، جب وہ طلوع ہونے کے بعد اونچا ہو جاتا ہے۔ اور چاند کو جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) ضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں سورج کو وصحتها اور اس کی اُس روشنی کو جو اس کی ذاتی روشنی ہے۔ تھے ہم شہادت کے طور پر قمر کو بھی پیش کرتے ہیں یعنی ایک ایسے وجود کو جس ہم شہادت کے طور پر قمر کو بھی پیش کرے میں روشنی اخذ کرنے اور اس کو اپنے اندر جذب کرنے کا مادہ پایا جاتا ہے۔ پایا جاتا قمر کے معنے در اصل ری فلیکٹر کے ہی ہیں یعنی ایسا وجو د جس میں ذاتی طور پر یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ سورج سے نور لے کر اسے دوسروں کی طرف پھینک