صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 396 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 396

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۹۶ ۶۵ - کتاب التفسير / لا اقسم اختیار کرنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے اور نہ اس راستے پر چل کر کوئی عزت ملتی ہے۔ اور راستہ اونچا انہی دو سبب سے کہلاتا ہے۔ اس پر چڑھنے میں تکلیف ہو ، یا اس پر چڑھ کر صحیح عزت ملے۔ پس یہاں تجدین سے خیر اور شر مراد نہیں۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم نے انسان کی ترقی کے لئے دونوں قسم کے راستے کھول دیے ہیں اس کی دینی ترقی کے راستے بھی کھولے ہوئے ہیں اور اس کی دنیوی ترقی کے راستے بھی کھولے ہوئے ہیں۔ اور یہ دونوں راستے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ کھولے ہیں۔ جو لوگ آپ پر سچے دل سے ایمان لائیں گے اور اسلام کے تمام احکام کی خلوص دل کے ساتھ اتباع کریں گے انہیں نہ صرف روحانی ترقی حاصل ہو گی اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے خدا تعالیٰ ان سے خوش ہو گا بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیوی نعماء سے بھی متمتع فرمائے گا۔ (تفسیر کبیر ، سورۃ البلد، زیر آیت وَهَدَينه النجدين جلد ۸ صفحه ۲۱۹) فَلَا اقْتَحَمَ العَقَبَةَ (البلد : ۱۲) اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں گھائی پر نہیں چڑھا۔ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اقتحام کے معنے کسی خطرناک جگہ میں بغیر پس و پیش کو سوچے دھنس جانے کے ہیں اس اقتحام عقبہ کو چند آیات میں ایثار رفس وغیرہ سے تعبیر کیا ہے ایثار جبھی ہو سکتا ہے جبکہ انسان اپنی تنگی کو قبول کرے اور دوسرے کی راحت کو مقدم کر دے۔ یہ ایک دشوار گزار گھائی ہے دنیا کی مفتوح قو میں جب کبھی فاتح بن گئی ہیں تو اسی اقتحام کی وجہ سے بن گئی ہیں۔ “ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحہ ۳۹۲) وَمَا أَدْرَيكَ مَا الْعَقَبَةُ ، فَكُ رَقَبَةٍ أَوْ إِطْعَمُ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ (البلد : ۱۳ تا ۱۵) اور مجھے کیا سمجھائے کہ عقبہ کیا ہے ؟ گردن کا آزاد کرنا، یا ایک عام فاقے والے دن میں کھانا کھلانا۔ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع) یہاں بلندی پر چڑھنے کے مضمون کو کھول دیا گیا کہ کسی ظاہری پہاڑی پر چڑھنا مراد نہیں بلکہ جب غریب قوموں کو بھوک ستائے اور قوموں کو غلام بنا لیا جائے اس وقت اگر کوئی ان کی گردنوں کو آزاد کرانے کے لئے جد وجہد کرے اور فاقہ کشوں اور