صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 395
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۹۵ ۶۵ - کتاب التفسير / لا اقسم کر دیا تھا۔اور ذہن اس طرف جا سکتا تھا کہ ممکن ہے عرب کا کوئی اور حصہ ہو جس میں ان مظالم کا آغاز ہونے والا ہو۔یا کوئی اور لوگ ہوں جن کو مصائب و آلام کا تختہ مشق بنایا جانے والا ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں ایسے شبہات کی تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ تمہارا یہ خیال صحیح نہیں۔یہی مکہ جس میں تم رہتے ہو جس میں تمہارے عزیز اور رشتہ دار موجود ہیں اور جس میں کفار کی طرف سے مظالم شروع ہونے کا تمہارے دلوں میں خیال تک بھی پیدا نہیں ہوتا۔اسی مکہ میں ان کی طرف سے یہ افعال ہوں گے اور اسی شہر میں تم پر مظالم کے تیر برسائے جائیں گے۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ البلد، جلد ۸ صفحه ۵۷۸،۵۷۷) وَ انْتَ حِل بهذا البلد : حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تیرا اِس (شہر) میں جنگ کرنا جائز ہے۔یہاں صیغہ زمانہ حاضر ہے مگر اس سے مراد آنے والا وقت ہے۔یہ مکی سورۃ ہے جس میں پیشگوئی کی گئی ہے۔اور یہ پیشگوئی آٹھ ہجری میں فتح مکہ کی صورت میں پوری ہوئی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۹۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ ہجری میں جب دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ اس شہر میں داخل ہوئے آپ نے عام معافی کا اعلان فرمایا۔دنیا کے فاتحین کے برعکس تواضع اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ آپ کی گردن جھکتے جھکتے اونٹ کے پالان کو لگ رہی تھی آپ نے اپنے اسوہ حسنہ سے بنی نوع انسان کو یہ پیغام دیا کہ فتوحات کی بلندیاں فخر و مباہات اور قوموں کو زیر نگیں کرنے کا نام نہیں بلکہ اصل بلندی اور عظمت، معاشرہ سے بھوک اور افلاس کو دور کرنا اور سکتی ہوئی انسانیت کو قعر مذلت سے اُٹھا کر بام عروج پر کھڑا کرتا ہے۔گو یہ ترقی مادی بھی ہے مگر انسانیت کا اصل شرف اس کا اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنا اور تخلقُوا بِأَخْلاقِ اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھانا ہے۔التجدينِ کے معنی خیر اور شر امام بخاری نے مجاہد سے بیان کیے ہیں۔وَهَدَيْنَهُ النَّجْدَيْنِ (البلد: ۱۱) پھر ہم نے اسے (ہدایت اور گمراہی کے ) دونوں راستے بھی بتا دیتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ان معنوں کو قبول نہیں فرمایا۔آپؐ فرماتے ہیں: جل کے معنی پہاڑی راستہ کے ہوتے ہیں لیکن مفسرین نے اس سے برائی اور بھلائی کا راستہ مراد لیا ہے چنانچہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعودؓ دونوں نے کہا ہے کہ اس جگہ تجدین سے خیر اور شر دو راستے مراد ہیں۔میری رائے یہ ہے کہ یہاں تجدین سے بھلائی اور برائی کے راستے مراد نہیں۔بلکہ دینی اور دنیوی ترقی کے راستے مراد ہیں۔شر کا راستہ اونچا نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ نہ اس کے