صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 394 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 394

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۹۴ ٩٠ سُورَةُ لَا أُقْسِمُ ۶۵ - کتاب التفسير / لا اقسم وَقَالَ مُجَاهِدٌ : وَاَنْتَ حِل بهذا البلد اور مجاہد نے کہا: وَ انْتَ حِلٌ بِهَذَا الْبَلَدِ سے مراد (البلد:٣) مَكَّةَ لَيْسَ عَلَيْكَ مَا عَلَى مکہ ہے۔(اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ) اس شہر النَّاسِ فِيهِ مِنَ الْإِثْمِ وَ وَالد البلد: ٤) میں جو باتیں لوگوں پر گناہ ہیں وہ تم پر نہیں۔اور آدَمَ وَمَا وَلَدَ (البلد:٤)۔لبدا ( البلد: والپا سے مراد حضرت آدم ہیں اور ما ولد سے ٧) كَثِيرًا وَالنَّجْدَيْنِ (البلد: ۱۱) الْخَيْرُ اُن کی اولاد۔لبدا کے معنی ہیں بہت سارا۔اور التجدين سے مراد ہے خیر و شر۔مَسْغَبَة کے معنی وَالشَّرُّ مَسْغَبَةٍ (البلد: ١٥) مَجَاعَةٍ۔ہیں بھوک متربة کے معنی ہیں مٹی میں پڑا ہوا۔متربة (البلد: ١٧) السَّاقِةُ فِي التُّرَابِ۔فَلَا اقتحم العقبة کہا جاتا ہے اس سے مراد یہ ہے يُقَالُ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (البلد : ۱۲) فَلَمْ کہ دنیا میں گھائی پر نہیں چڑھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے يَقْتَحِمِ الْعَقَبَةَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ فَسَّرَ اس گھائی کو کھول کر بیان کیا، فرمایا: یعنی تجھے کیا الْعَقَبَةَ فَقَالَ وَمَا ادريكَ مَا الْعَقَبَةُ فَكُ معلوم وہ گھائی کیا ہے ؟ گردن کا آزاد کرنا، یا سخت رَقَبَةٍ أو إطعم في يومٍ ذِى مَسْغَبَةٍ تکلیف اور بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔فی البلد: ١٣-١٥)۔في كَبَد (البلد :) کبد سے مراد ہے سختی میں۔فِي شِدَّةِ۔تشریح : سُورَة لا أقسم : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سورۃ میں اللہ تعالی ظلم کے مقام کو واضح کرتا ہے۔اسی طرح ظلم کی بعض اور تفصیلات کو بیان کرتا ہے۔اور بتاتا ہے کہ یہ ظلم مکہ میں ہی شروع ہو گا۔ہو سکتا تھا کہ چونکہ اسوقت تک مسلمانوں پر ظلم نہیں ہوا تھا۔اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے رشتہ دار مکہ میں موجود تھے۔یہ خیال کر لیا جاتا کہ لیالی عشر کی پیشگوئی کا جو ظہور ہونے والا ہے ممکن ہے اس رنگ میں ہو کہ بعض اور علاقوں میں اسلام پھیلے اور وہاں مسلمانوں پر مظالم شروع ہو جائیں۔اس خیال کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مکہ سے باہر بھی اسے دستے لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع