صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 391 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 391

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۹۱ ۶۵ - کتاب التفسير والفجر ۸۹- سُورَةُ وَالْفَجْرِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ : إِرَمَ ذَاتِ الْعِبَادِ (الفجر : ۸) اور مجاہد نے کہا: إِرَمَ ذَاتِ الْعِبَادِ سے مراد قدیم يَعْنِي الْقَدِيمَةَ۔ وَالْعِمَادُ أَهْلُ عَمُودٍ عاد یعنی عاد اولی ہے اور ذات العماد سے مراد یہ { لَا يُقِيمُونَ } سَوْطَ عَذَاب (الفجر : ١٤) ہے کہ وہ خیموں میں رہنے والے لوگ تھے۔ الَّذِي عُذِّبُوا بِهِ أَكلَّا لَنَا (الفجر : ۲۰ خانه بدوش، ایک جگہ نہیں ٹھہرا کرتے تھے۔ السَّف ۔ وَجَبَّا ( الفجر : ۲۱) الْكَثِيرُ ۔ وَقَالَ سَوْطَ عَذَابِ یعنی جس چیز سے ان کو عذاب دیا۔ مُجَاهِدٌ كُلُّ شَيْءٍ خَلَقَهُ فَهُوَ شَفْعٌ، اَكْلا لنا کے معنی ہیں کہ سب سمیٹ کر کھا جاتا۔ اور السَّمَاءُ شَفْعٌ، وَالْوَتْر (الفجر: ٤) اللهُ جَنَّا کے معنی ہیں بہت زیادہ ۔ اور مجاہد نے کہا: ہر تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَقَالَ غَيْرُهُ سَوطَ چیز جس کو اللہ نے پیدا کیا وہ شفع یعنی جوڑا ہے۔ عذاب ( الفجر : ١٤) كَلِمَةٌ تَقُولُهَا الْعَرَبُ آسمان بھی جوڑا ہے (یعنی زمین کا)۔ اور الوثر سے مراد اللہ تبارک و تعالیٰ ہے اور مجاہد کے سوا اوروں لِكُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْعَذَابِ يَدْخُلُ فِيهِ نے کہا: سوط عذاب ایک محاورہ ہے جسے عرب ہر السَّوْطُ لَبِالْمِرْصَادِ (الفجر : ١٥) إِلَيْهِ الْمَصِيرُ ۔ تَخْضُونَ (الفجر: ١٩) تُحَافِظُونَ قسم کے عذاب کے لیے بولتے ہیں اس میں کوڑے کی سزا بھی شامل ہوتی ہے۔ لَبِالْمِرْصَادِ یعنی اس وَتَحْضُونَ تَأْمُرُونَ بِإِطْعَامِهِ الْمُطْمَينَةُ کی طرف لوٹنا ہے۔ تحفون یعنی تم حفاظت کرتے (الفجر : ۲۸) الْمُصَدِّقَةُ بِالثَّوَابِ۔ ہو اور تحصون کے معنی ہیں مساکین کو کھانا کھلانے وَقَالَ الْحَسَنُ يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطَينَةُ کا حکم دیتے ہیں۔ الطمينة یعنی ثواب کو سچ ماننے (الفجر : ۲۸) إِذَا أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ والی۔ اور حسن نے کہا: يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ قَبْضَهَا اطْمَأَنَّتْ إِلَى اللَّهِ وَاطْمَأَنَّ اللَّهُ سے وہ نفس مراد ہے کہ جب اللہ عز وجل اس کو إِلَيْهَا، وَرَضِيَتْ عَنِ اللَّهِ وَرَضِيَ اللَّهُ بلانا چاہے تو اس کو اپنے پاس اُٹھا لے) وہ اللہ عَنْهَا ، فَأَمَرَ بِقَبْضِ رُوحِهَا وَأَدْخَلَهُ اللهُ کے پاس مطمئن ہو جائے اور اللہ اس سے مطمئن الْجَنَّةَ وَجَعَلَهُ مِنْ عِبَادِهِ الصَّالِحِينَ۔ ہو جائے یعنی وہ اللہ سے خوش ہو جائے اور اللہ ا یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۹۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔