صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 392
صحیح البخاری جلد ۱۲ لَمَمْتُهُ أَجْمَعَ أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهِ۔۳۹۲ ۶۵ - کتاب التفسير والفجر وَقَالَ غَيْرُهُ جَابُوا ( الفجر : ۱۰) نَقَبُوا، اس سے خوش ہو جائے پھر اللہ اس کی روح قبض مِنْ جِيبَ الْقَمِيصُ قُطِعَ لَهُ جَيْبٌ، کرنے کا حکم دے اور اللہ اس کو جنت میں داخل يَجُوبُ الْفَلَاةَ يَقْطَعُهَا۔لَمَّا ( الفجر :۲۰) کر دے اور اس کو اپنے نیک بندوں میں شریک کرے۔اور مجاہد کے سوا اوروں نے کہا: جابوا کے معنی ہیں انہوں نے پھاڑا۔کہتے ہیں جیب القميص یعنی قمیص کو پھاڑ کر اس کا گریبان بنایا یا جیب بنائی۔يَجُوبُ الْفَلَاةَ کے معنی ہیں بیابان کو طے کرتا ہے۔لنا کہتے ہیں لَمَمْتُهُ أَجمع یعنی میں نے اس کو آخر تک سمیٹ لیا۔تشریح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سورت کا نام الفجر ہے اور فجر کے طلوع پر دس راتوں کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے اور پھر دو اور ایک کو بھی گواہ ٹھہرایا گیا ہے جو کل تیرہ بنتے ہیں یہ تیرہ سال ابتدائی مکی دور کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں جس کے بعد ہجرت کی فجر طلوع ہوئی تھی۔(ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفتہ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الفجر صفحہ ۱۱۶۵) ادَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ سے مراد قدیم عاد یعنی عاد اولی ہے۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ارم ایک شہر کا نام ہے اور عماد اُن کے جسموں کی مضبوطی اور غیر معمولی لمبے قد کی وجہ سے کہا گیا ہے۔امام ابن حجر کے نزدیک ارم ایک قبیلہ کا نام ہے اور یہ قبیلہ حضرت نوح کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہے۔اور عاد عوص بن ارم کی نسل میں سے ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۸۹۶) لايتهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَةُ : اس سورۃ کی آخری آیات میں بنی نوع انسان کی خدمت کی ترغیب دی گئی ہے خدمت خلق کرنے والے ایسے نافع الناس وجودوں کو یہ خوش خبری دی گئی ہے کہ وہ اس حال میں خدا کے حضور حاضر ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” اس جگہ صاحب تفسیر معالم اس آیت کی تفسیر کر کے اپنی کتاب کے صفحہ ۹۷۵ میں لکھتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بندہ مومن وفات پانے پر ہوتا ہے تو اس کی طرف اللہ جلَّمانُهُ دو فرشتے بھیجتا ہے اور اُن کے ساتھ