صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 390 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 390

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۹۰ ۶۵ - کتاب التفسير / هل اتيك حديث کے اور کافر کفر کی اشاعت کر کے آخر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور دنیوی نتائج دیکھ کر اُخروی نتائج دیکھنے کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوں گے۔سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ دونوں کے متعلق یہ امر بتایا جا چکا ہے کہ ان کا آپس میں گہرا ربط ہے اس کا ایک ثبوت اس امر سے بھی ملتا ہے کہ احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سبح اسم رَبَّكَ الْأَعْلَى پڑھتے تو فرماتے سُبْحَانَ رَبِّي الأخلی اور جب سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کرتے کرتے ان الينا ايَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمُ پر پہنچتے تو فرماتے اللَّهُمَّ حَاسِبُنِی حِسَابًا يسيرًا۔ایک سورۃ کے شروع میں ایک فقرہ کا دُہرانا اور دوسری سورۃ کے آخر میں دوسرے فقرہ کا دہرانا صاف طور پر بتارہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ دونوں سورتیں مضمون کے اعتبار سے آپس میں جوڑ رکھتی ہیں اسی لئے ایک سورۃ کے ابتداء میں اور دوسری سورۃ کے انتہا میں ایک فقرہ یہ بتانے کے لئے دہراتے کہ جو مضمون سبح اسم ربک الاعلی سے شروع ہو ا تھاوُہ اِنَّ الينا ايَا بَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ پر آکر ختم ہو گیا ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ الغاشیہ، زیر آیت انَّ اليْنَا ايَا بَهُمُ۔۔جلد ۸ صفحه ۴۷۸)