صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 389 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 389

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۸۹ - ۶۵ کتاب التفسير / هل اتيك حديث ترو تازگی آئے وہ اُن کو حاصل نہیں ہو گی۔کھولتا ہوا چشمہ آخرت میں تو ہوگا ہی دنیا میں کھولتے ہوئے چشمہ سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جس سے دل کو آگ لگ جائے۔مطلب یہ ہے کہ کفار کو ایسے مصائب پہنچیں گے اور ایسے حالات میں سے وہ گزریں گے کہ اُن کے دل جل جائیں گے۔یہ عین انی ہی تھا کہ اُن کی اولادیں مسلمان ہو گئیں اور جس مذہب کو مٹانے کے لئے وہ کھڑے ہوئے تھے اسی مذہب میں اُن کے بیٹے شامل ہو گئے۔جب وہ اپنی اولادوں کو اسلام میں شامل ہوتے دیکھتے ہوں گے تو کس طرح اُن کے دل جلتے ہوں گے کہ ہم کیا چاہتے تھے اور کیا ہو گیا۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ الغاشیه زیر آیت تُسقى مِن عَيْنِ انيَةٍ جلد ۸ صفحه ۴۵۰،۴۴۹) الطَّرِيعُ نَبتُ يُقَالُ لَهُ الشَّبْرِقُ: طَرِيع ایک قسم کی نباتات ہے جس کو شبرق کہتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الطَّرِيعُ نَبَاتُ رَطْبُهُ يُسَمَّى شِبْرِفًا وَيَابِسُهُ ضَرِيعًا لَا تَقْرُبُهُ دَابَّةٌ الخبدِهِ۔یعنی ضریع گھاس کی ایک قسم ہوتی ہے جب تک وہ گھاس تازہ رہے اُسے شبرق کہتے ہیں اور جب سوکھ جائے تو ضریع کہتے ہیں۔ضریع ایسی گندی چیز ہوتی ہے کہ جانور بھی اس کو نہیں کھاتے۔اسی طرح ضریع ایسی گھاس کو بھی کہتے ہیں جو سمندر کے کنارے اُگ آتا ہے مگر چونکہ نہایت گندہ اور بد بو دار ہوتا ہے لوگ اسے کاٹ کر پانی میں بہا دیتے ہیں۔اسی طرح ہر درخت کی سوکھی ٹہنی یا سُوکھے پتوں کو بھی ضریع کہتے ہیں۔اسی طرح سڑے ہوئے پانی میں ایک بوٹی ہوتی ہے اس کو بھی ضریع کہتے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة الغاشیه زیر آیت لَيْسَ لَهُم طَعَامُ اللَّا مِنْ ضَریع جلد ۸ صفحه ۴۵۵) ايَا بَهُمْ کے معنی ہیں ان کا لوٹنا۔فرماتا ہے: اِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم (الغاشية: ۲۷،۲۶) یقینا انہیں ہماری ہی طرف لوٹنا ہے پھر ان سے حساب لینا بھی یقین ہمارا ہی کام ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس آیت سے اس مضمون کو ختم کیا گیا ہے جو سورۃ الاعلیٰ سے شروع کیا گیا تھا اور بتایا گیا ہے کہ مومن و کافر اپنے اپنے کام پورے کر کے مومن تسبیح کو بلند کر