صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 388 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 388

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۸۸ ۶۵ - كتاب التفسير / هل اتنك حديث پائی جاتی ہے کہ کافروں کے اسلام کے خلاف اُٹھنے اور زور لگانے کا اس میں اشارہ کیا گیا ہے اور مومنوں کا ان کے مقابلہ میں کامیاب ہونا اشارہ بیان کیا گیا ہے۔“ ( تفسير كبير ، سورۃ الغاشیہ ، جلد ۸ صفحه ۴۴۱، ۴۴۲) عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ سے مراد نصاری ہیں۔ نَاصِبَةٌ: نَصَبَ سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور نَصَبَهُ الْهَم کے معنی ہوتے ہیں اتعبه تم نے اس کو تھکا دیا۔ اور نَصَبَ فُلان الشیء کے معنی ہوتے ہیں وَضَعَهُ وَضُعًا ثَابِنَا كَنَصْبٍ الرُّمح وَالْبِنَاءِ وَالْحَجَرِ یعنی کسی چیز کو مضبوطی سے گاڑ دیا جیسے نیزہ گاڑا جاتا ہے یا بنیاد کو مضبوط بنایا جاتا ہے یا پتھر کو عمارت میں مضبوطی سے پیوست کر دیا جاتا ہے۔ وَرَفَعَهُ ضِد نیز یہ لفظ اضداد میں سے ہے اور اس کے معنی بلند کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور نصب السیر کے معنی ہوتے ہیں رَفَعَهُ أَوْ هُوَ أَنْ يَسِيرَ طُولَ يَوْمِهِ سَيْرًا لَيْنًا اُس نے سیر کو بلند کیا یعنی خوب تیزی سے سفر کیا یا آہستہ آہستہ سارا دن سفر کرتا رہا۔ گویا اس کے دونوں معنی ہیں۔ یہ بھی معنی ہیں کہ خوب گھوڑا دوڑایا اور یہ بھی معنی ہیں کہ آہستہ آہستہ دیر تک سفر کرتا چلا گیا۔ اور نصبَ لِفُلان کے معنی ہوتے ہیں عَادَاهُ اس سے دشمنی کی۔ اور نَصَبَ الْعَلَم کے معنی ہوتے ہیں رَفَعَهُ وَ أَقَامَهُ مُسْتَقْبِلا بِہ اس نے جھنڈے کو اپنے سامنے کھڑا کیا اور نَصَبَ الشَّجَرَةَ کے معنی ہوتے ہیں غَرَسَهَا فِي الْأَرْضِ اُس نے زمین میں درخت گاڑا اور نَصَبَ السُّلْطَانُ فُلَانًا کے معنی ہوتے ہیں وَلا هُ مَنْصَبا اس کو بادشاہ کے منصب پر مقرر کیا اور نصبَ لَهُ رَأَيَّا کے معنی ہوتے ہیں اشرْتَ عَلَيْهِ بر أي لا يَعْدِلُ عَنْهُ کہ تو نے ایسی رائے اُن کو دی جس سے وہ اِدھر اُدھر نہ ہو سکا۔ (اقرب الموارد- نصب) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ کے معنے ہوئے عمل کرنے والی جماعت یا اعلان جنگ کرنے والی یا اپنی بنیادوں کو مضبوطی سے گاڑ دینے والی یا لمبے لمبے سفر کرنے والی یا اپنی دشمنیوں کا اظہار کرنے والی یا عہدوں پر مقرر کرنے والی یا اپنے جھنڈوں کو اونچا کرنے والی یا نیزوں کو گاڑنے والی جماعت۔“ تفسیر کبیر ، سورۃ الغاشیہ ، زیر آیت حَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ جلد ۸ صفحه ۴۴۷) عين انية سے مراد ہے ایسا گرم چشمہ جو گرمی میں اپنی حد کو پہنچ گیا اور اس سے پینے کا وقت آ پہنچا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گرم پانی پینے کا ذکر فرما کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ ہر آرام سے محروم ہو جائیں گے یا یہ کہ اُن کی روحانی امراض کو دور کرنے کے لئے انہیں ابتلاؤں میں ڈالا جائے گا اور ایسے گرم چشمہ سے اُن کو پانی پلایا جائے گا جس کی گرمی انتہا درجہ تک پہنچی ہوئی ہو گی۔ یعنی پانی پینے کی جو اصل غرض ہوتی ہے کہ انسانی جسم پر