صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 387 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 387

صحیح البخاری جلد ۱۲ -70 ۳۸۷ - - كتاب التفسير / هل اتيك حديث ۸۸ سُورَةُ هَلْ أَتَكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عَامِلَةٌ نَاصِبَةُ اور حضرت ابن عباس نے کہا: عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ (الغاشية: ٤ ) النَّصَارَى، وَقَالَ مُجَاهِدٌ سے مراد نصاری ہیں۔اور مجاہد نے کہا: عَيْن انية عَيْنِ أنِيَةٍ (الغاشية: ٦) بَلَغَ إِنَاهَا وَحَانَ سے مراد ہے ایسا گرم چشمہ جو گرمی میں اپنی حد کو شُرْبُهَا ، حَيم أن (الرحمن: ٤٥) بَلَغَ پہنچ گیا اور اس سے پینے کا وقت آپہنچا۔حمیھ ان إِنَاهُ، لَا تَسْعُ فِيهَا لاغيةً (الغاشية: ١٢) (سورة الرحمن میں ہے۔اس کے بھی یہی معنی ہیں) شَتْمًا، وَيُقَالُ الضَّرِيعُ نَبْتٌ يُقَالُ لَهُ حد درجے کی گرمی کو پہنچ گیا۔لَا تَسْمَعُ فِيهَا رَاغِيَةً الشَّبْرِقُ يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْحِجَازِ الضَّرِيعَ یعنی اس میں تم لغو بات یعنی گالی گلوچ نہیں سنو گے۔اور کہا جاتا ہے کہ ضریع ایک قسم کی نباتات إِذَا يَبِسَ وَهُوَ سُمْ۔بِمُسَيْطِرٍ بِمُسَلَّطٍ، ہے جس کو شبرق کہتے ہیں (یعنی پیٹھ کنڈا) شبرق وَيُقْرَأُ بِالصَّادِ وَالسِّينِ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ جب خشک ہو جائے اور زہر بن جائے تو اہل حجاز يَا بَهُم (الغاشية: ٢٦) مَرْجِعَهُمْ۔ریح اس کو ضریع کا نام دیتے ہیں۔ہمسيطر کے معنی ہیں مسلط اور ص“ اور ”س“ دونوں کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور حضرت ابن عباس نے کہا: ايَا بَهُمْ کے معنی ہیں ان کا لوٹنا۔سُورَةُ هَلْ اَنكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سورۃ اور سورۃ الاعلیٰ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمعہ اور عیدین میں پڑھنا اور بالالتزام پڑھنا اور اتنا تعہد کرنا کہ اگر دونوں نمازیں جمع ہو جائیں تب بھی آپ دونوں میں التزانا یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے بتاتا ہے کہ اسلام کی اجتماعی زندگی کے ساتھ یہ دونوں سورتیں گہرا تعلق رکھتی ہیں۔سورۃ الا علیٰ اسلامی ترقی اور دین اسلام کی اشاعت، اُس کے ماننے والوں کی زیادتی اور مسلمانوں کے غلبہ پر دلالت کرتی تھی اور سورۃ الغاشیہ میں گو وہ مضمون نہیں مگر اس میں بھی یہ بات ضرور