صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 19 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 19

صحیح البخاری جلد ۱۲ 19 -۲۵ کتاب التفسير / المؤمن کہ اگر ایسا دعویدار اپنے دعوی میں جھوٹا ہو گا تو اللہ تعالیٰ خود اس کے جھوٹ سے ہی اُس کی ہلاکت کے سامان پیدا کر دے گا، اُس کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کسی مخالف کی مخالفت کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن یہ یادر رکھنا کہ اگر وہ سچا ہے تو جو انذار اور وعید اُس نے تمہارے متعلق کی ہے اُس میں سے کسی پیشگوئی کے مورد بن کر اپنی ہلاکت کے سامان نہ بنا لیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس آیت کریمہ کے ذکر میں فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ کے راستبازوں اور ماموروں کے مقابلہ میں ہر قسم کی کوششیں ان کو کمزور کرنے کے لیے کی جاتی ہیں لیکن خدا اُن کے ساتھ ہوتا ہے۔وہ ساری کوششیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ایسے موقعہ پر بعض شریف الطبع اور سعید لوگ بھی ہوتے ہیں جو کہہ دیتے ہیں: اِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُه وَ إِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ (المؤمن: ۲۹) صادق کا صدق خود اس کے لیے زبر دست ثبوت اور دلیل ہوتا ہے اور کاذب کا کذب ہی اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔پس اُن لوگوں کو میری مخالفت سے پہلے کم از کم اتنا ہی سوچ لینا چاہیے تھا کہ خدا تعالیٰ کی کتاب میں یہ ایک راہ راستباز کی شناخت کی رکھی ہے۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں مگر اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحه ۵۳۶)