صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 18 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 18

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۸ -۶۵ کتاب التفسير / المؤمن توجہ دلائی ہے کہ وہ حمید و مجید خدا توبہ قبول کرنے والا اور گناہوں کا بخشنے والا ہے، اُس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو، اُس کی شان بہت بلند اور اُس کا جو دو کرم بے پایاں ہے۔وإِنما بعث اللهُ مُحَمَّدًا مُبَشِّرًا وَمُنْذِرًا : اصلاح و تزکیہ کے لیے اندار د تبشیر ہر دو لازم و ملزوم ہیں۔نہ تو محض خوشخبریاں اور بشارات ہی اصلاح کرتی ہیں اور نہ ہی محض خوف دلانا۔اس سورۃ میں بھی ان دونوں مضامین کو یکے بعد دیگرے متعدد بار دہرایا گیا ہے۔جہاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت ہے وہیں نافرمانوں کو آگ کے عذاب سے ڈرایا بھی گیا ہے۔امام بخاری نے الکول کے لفظ میں رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُل شی کے مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے جبکہ دُخِرِينَ، إِلَى النّجوقِ، لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ ، يُسْجَرُونَ، تَمْرَحُونَ کے الفاظ کے انتخاب سے ان آیات کے مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے موردِ سزا ہونے والوں کا تذکرہ ہے۔عنوانِ باب میں علاء بن زیاد کے حوالے سے درج ہے کہ لوگ عموماً اپنے بُرے اعمال کے باوجو د جنت کے خواہاں رہتے ہیں۔ایسے لوگ يُعِبَادِی الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ (الزمر:۵۴) کا اگر یہ مفہوم سمجھتے ہیں کہ انہیں اصلاح نفس کی کوئی ضرورت نہیں تو انہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: أَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَبُ النَّارِ (المؤمن: ۴۴) کہ حد سے گزرنے والے لوگ دوزخی ہیں۔ا تَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولُ رَبِّيَ اللهُ : روایت زیر باب میں ذکر ہے کہ ایک بار عقبہ بن ابی معیط آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں کپڑا ڈال کر آپ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس اثناء میں حضرت ابو بکر آ پہنچے اور انہوں نے اُس کو ہٹایا اور کہا: القتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولُ رَبِّيَ اللهُ (المؤمن:۲۹) قرآنِ کریم کے یہ الفاظ اس موقع کے ہیں کہ جب فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے دربار میں موجود ایک شخص جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں میں سے تھا، اُس نے کہا: اتَّقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَتِ مِنْ رَّبِّكُمْ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ (المؤمن:۲۹) اس آیت کریمہ میں نہایت عمدہ پیرایہ میں مامور من اللہ کی مخالفت کرنے والوں کو سمجھایا گیا ہے ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : تو کہہ دے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : کیا تم محض اس لئے ایک شخص کو قتل کر دگے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔66 ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " کیا تم محض اس لئے ایک شخص کو قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلے کھلے نشان لے کر آیا ہے اگر وہ جھوٹ نکلا تو یقیناً اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو جن چیزوں سے وہ تمہیں ڈراتا ہے ان تو یقینا کا پر میں سے کچھ ضرور تمہیں آپکڑیں گی۔“