صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 386
صحیح البخاری جلد ۱۲ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۳۸۶ ۶۵ - كتاب التفسير / سبح اسم ربك الأعلى اس آیت میں قدر کے تینوں معنے ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی کہ قَدَّدَهُ عَلَی الشَّيْءِ یعنی قَدَّرَ الْإِنْسَانَ عَلَى الْهُدى الله تعالیٰ نے انسان کو ہدایت پر قادر بنایا۔ یعنی اُسے اس قابل بنایا ہے کہ وہ ہدایت پائے اور ترقی کرے۔ دوسرے معنوں کے لحاظ سے وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدی کا یہ مفہوم ہو گا کہ جس نے انسان کی حالت کا ہمیشہ اندازہ لگایا۔ کیونکہ قدر فلان کے معنے ہوتے ہیں رَوّى وَفَكَرَ فِي تَسْوِيَةِ أَمْرِه پس پس قدر فھدی کے معنے یہ ہوئے کہ جب کبھی خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ نے اُس کو دُور کرنے کی تجویز کی۔ قدار کے ایک یہ معنے بھی تھے کہ قَاسَهُ بِهِ وَجَعَلَهُ عَلَی مِقْدَارِهِ اُس نے ایک چیز کو دوسری چیز پر قیاس کیا اور اُس کے مطابق اُسے بنایا۔ اس لحاظ سے آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ انسان کی مرض اور اُس کے علاج کا موازنہ کر کے اللہ تعالیٰ نے اُس کی اصلاح اور درستی کے سامان مہیا کئے۔ پہلے معنے تو یہ تھے کہ جس قسم کی مرض تھی اُسی قسم کا علاج نازل کیا اور دوسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مرض کا اندازہ کیا اور پھر جتنی مرض تھی اتنا علاج بھیج دیا۔“ ( تفسير كبير ، سورة) ، سورۃ الاعلیٰ، زیر آیت وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدی جلد ۸ صفحه (۴۰۵)