صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 385
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۸۵ ۶۵ - کتاب التفسير / سبح اسم ربك الاعلى تشريح : سُورَةُ سَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى : امام بخاری نے اس سورۃ کے حوالہ سے صرف ایک ہی روایت لی ہے جو حضرت براء سے مروی ہے۔ دیگر محدثین نے بعض روایات اپنی کتب میں درج کی ہیں۔ امام بخاری نے ان روایات کو اپنی شرائط کے مطابق قبول نہیں کیا۔ اس سورۃ کے متعلق مسند احمد بن حنبل، مسلم اور دوسری کتب احادیث میں نعمان بن بشیر سے روایت آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ اور عیدین کی نمازوں کی پہلی رکعت میں یہ سورۃ پڑھا کرتے تھے اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ تلاوت فرمایا کرتے تھے بلکہ اگر عید اور جمعہ اکٹھے ہو جاتے تب بھی آپ یہی دونوں نمازوں میں پڑھا کرتے تھے۔ ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، دار قطنی، بیہقی، اور حاکم میں ابی ابن کعب سے روایت آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر کی پہلی رکعت میں یہ سورۃ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ حضرت علیؓ سے مسند احمد میں روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ سورۃ بہت پسند تھی۔ ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، حاکم، اور بیہقی میں حضرت عائشہ سے بھی روایت آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں یہ سورۃ، دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص اور معوذتین پڑھا کرتے تھے۔ کے قدر فھدی کے معنی ہیں اس نے انسان کی نیک بختی اور بد بختی مقرر کر دی اور جانوروں کو ان کی چراگاہوں کی ہدایت دے دی۔ قَدَّرَهُ عَلَی الشَّيْء کے معنی ہوتے ہیں جَعَلَهُ قَادِرًا یعنی اُس نے اُس کو قادر بنا دیا۔ اور قدر فلان کے معنی ہوتے ہیں رَوَى وَفَكَرَ فِي تَسْوِيَةِ امْرِہ ۔ یعنی اُس نے کسی معاملہ میں غور کیا اور سوچا کہ اُسے کس طرح سر انجام دے۔ قَدَّرَ الشَّيْء بِالشَّيْءِ کے معنی ہوتے ہیں قَاسَهُ بِهِ وَجَعَلَهُ عَلَى مِقْدَارہ۔ اُس نے ایک چیز کو دوسری پر قیاس کیا اور اُس کے مطابق اُسے بنایا۔ (اقرب الموارد- قدر ) ا (صحيح مسلم، کتاب الجمعة، باب ما يقرأ في صلاة الجمعة ) (مسند احمد بن حنبل، مسند الكوفيين، حديث النعمان بن بشیر جزء ۴ صفحه ۲۷۳) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب تفريع ابواب الوتر، باب ما يقرء في الوتر ) (سنن النسائی، کتاب قیام اللیل و تطوع النهار، باب نوع آخر من القراءة في الوتر ) (سنن ابن ماجه، کتاب اقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فيما يقرأ في الوتر ) (سنن الدار قطنی، کتاب الوتر، باب ما يقرأ في ركعات الوتر والقنوت فيه) (سنن الكبرى للبيهقی، کتاب الصلاة، جماع ابواب صلاة التطوع، باب ما يقرأ في الوتر بعد الفاتحة) (المستدرك على الصحيحين ، كتاب التفسير، من كتاب قراءات النبي صلى الله عليه وسلم، جزء ۲ صفحه (۲۸۲) (سنن الترمذی، ابواب الوتر، باب ما جاء ما يقرأ في الوتر) (المستدرك على الصحيحين، كتاب التفسير ، تفسير سورة سبح اسم ربك الاعلى، جزء ۲ صفحه ۵۷۲)