صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 384
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۸۴ ۶۵ -٦ - كتاب التفسير اسبح اسم ربك الأعلى ۸۷ سُورَةُ سَبْحِ اسْمَ رَبَّكَ الْأَعْلَى وَقَالَ مُجَاهِدٌ : قَدَّرَ فَهَدی اور مجاہد نے کہا: قدر فھدی کے معنی ہیں اس (الأعلى: ٤) قَدَّرَ لِلْإِنْسَانِ الشَّقَاءَ نے انسان کی نیک بختی اور بد بختی مقرر کر دی اور وَالسَّعَادَةَ، وَهَدَى الْأَنْعَامَ لِمَرَاتِعِهَا۔جانوروں کو ان کی چراگاہوں کی ہدایت دے دی۔٤٩٤١ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي ۴۹۴۱: عبد ان نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ مجھے میرے والد ( عثمان بن جبلہ ) نے بتایا اُنہوں الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَوَّلُ مَنْ نے شعبہ سے، شعبہ نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں وَابْنُ أُمّ مَكْتُومٍ، فَجَعَلَا يُقْرِئَانِنَا میں سے پہلے جو ہمارے پاس آئے وہ حضرت الْقُرْآنَ، ثُمَّ جَاءَ عَمَّارٌ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ، مصعب بن عمیر اور حضرت ابن ام مکتوم تھے۔وہ ہمیں قرآن پڑھانے لگے۔پھر حضرت عمار اور حضرت بلال اور حضرت سعد آئے۔پھر ان کے ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ بعد حضرت عمر بن خطاب مع ہیں آدمیوں کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ آئے۔پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِهِ، حَتَّى رَأَيْتُ میں نے مدینہ والوں کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی بات الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ يَقُولُونَ هَذَا سے ایسے خوش ہوئے ہوں جیسا کہ وہ نبی صلی اللہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ علیہ وسلم کے آنے پر خوش ہوئے یہاں تک کہ جَاءَ، فَمَا جَاءَ حَتَّى قَرَأْتُ سَبْح میں نے بچیوں اور بچوں کو دیکھا وہ بھی کہہ رہے اسْمَ رَبَّكَ الأعْلَى (الأعلى: ۲) فِي سُوَرٍ تھے یہ دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور آپ کے آجانے تک میں سَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور اس جیسی کئی ایک سورتیں پڑھ چکا تھا۔مِثْلِهَا۔