صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 382
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۸۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الطارق بھی مقرر ہے جو باطن کو شیطان سے روکتا ہے اور گمراہی کی ظلمت سے بچاتا ہے اور وہ روح القدس ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں پر شیطان کا تسلط ہونے نہیں دیتا اور اسی کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے کہ اِن عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سلطن (الحجر: ۴۳) کیا اس جگہ یہ خیال آسکتا ہے کہ انسان کے ظاہر کی نگہبانی کیلئے تو دائمی طور پر فرشتہ مقرر ہے لیکن اس کی باطن کی نگہبانی کیلئے کوئی فرشتہ دائمی طور پر مقرر نہیں بلکہ متعصب سے متعصب انسان سمجھ سکتا ہے کہ باطن کی حفاظت اور روح کی نگہبانی جسم کی حفاظت سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ جسم کی آفت تو اسی جہان کا ایک دُکھ ہے لیکن روح اور نفس کی آفت جہنم ابدی میں ڈالنے والی چیز ہے۔ اس آیت کے ہم مضمون قرآن کریم میں اور بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی تربیت اور حفاظت ظاہری و باطنی کیلئے اور نیز اس کے اعمال کے لکھنے کیلئے ایسے فرشتے مقرر ہیں کہ جو دائمی طور پر انسانوں کے پاس رہتے ہیں چنانچہ مجملہ ان کے یہ آیات ہیں: وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحْفِظِينَ (الانفطار :11) يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةٌ (الانعام : ۶۲ ) - لَهُ مُعَقِبَتْ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللهِ (الرعد: ۱۲) ۔ اس مقام میں صاحب معالم نے یہ حدیث لکھی ہے کہ ہر ایک بندہ کیلئے ایک فرشتہ موکل ہے جو اس کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ اور اس کی نیند اور بیداری میں شیاطین اور دوسری بلاؤں سے اس کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور اسی مضمون کی ایک اور حدیث کعب الاحبار سے بیان کی ہے اور ابن جریر اس آیت کی تائید میں یہ حدیث لکھتا ہے : إِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَّا يُفَارِ قُكُمْ إِلَّا عِنْدَ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: یقینا (جو) میرے بندے (ہیں) ان پر تجھے کوئی غلبہ نصیب نہ ہو گا۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " جبکہ یقینا تم پر ضرور نگہبان مقرر ہیں۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” وہ تم پر حفاظت کرنے والے (نگران) بھیجتا ہے۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : اُس کے لئے اُس کے آگے اور پیچھے چلنے والے محافظ (مقرر ) ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔“