صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 381 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 381

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۸۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الطارق فرماتا ہے کیا تم بادلوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ بار بار زمین پر برستے ہیں اگر بادلوں سے پانی نہ اُترے اور اگر وہ بار بار زمین پر آکر نہ برسیں تو زمین کی ترقی بالکل رُک جائے بادلوں کا پانی ہی ہے جو زمین کے نشو و نما اور اس کی اندرونی قابلیتوں کو ابھارنے کا باعث بنتا ہے۔ یہی حال روحانی زندگی کا ہوتا ہے اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ لوگ کھڑے نہ ہوں جو دنیا کی اصلاح کے لئے مامور ہوتے ہیں اور الہام الہی کا پانی زمین پر نہ اترے تو لوگوں کو روحانی زندگی کبھی حاصل نہ ہو سکے۔“ ( تفسیر کبیر، سورة الطارق، زیر آیت وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرجع جلد ۸ صفحه ۳۸۲) ذات الصدع سے مراد وہ زمین ہے جو نباتات اگاتی رہتی ہے۔ صداع کے معنی لغت میں شق کے بھی ہیں۔ اور ذاتُ الصَّدْعِ کے معنی ذَاتُ النَّبَاتِ کے بھی ہیں۔ پس ذاتُ الصَّداع کے معنی ہیں نبات والی زمین یا چھٹ کر روئیدگی پیدا کرنے والی چیز۔ فرماتا ہے یہ ا رماتا ہے یہ ایک دوسر ا نظام ہے جو ہم انظام ہے جو ہماری طرف سے دنیا میں جاری ہے ایک طرف بار بار زمین پر بادل برستا ہے اور دوسری طرف زمین میں یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ بار بار سبزیاں وغیرہ پیدا کرے۔ اسی طرح انسانی قابلیتیں گو تمہیں مردہ دکھائی دیتی ہیں مگر الہام الہی کی بارش کے بعد انہی مردہ قلوب میں سے کئی قسم کی سبزیاں اور روئیدگیاں پیدا ہونی شروع ہو جائیں گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جیسے بعض زمینیں شور ہوتی ہیں اسی طرح انسانوں میں سے بھی بعض شور ہوتے ہیں مگر الہام الہی کی بارش کے بعد اکثر لوگ ایسے نکلتے ہیں جو جلد یا بدیر مامور وقت کو قبول کر لیتے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر، سورة الطارق، زیر آیت وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصداع جلد ۸ صفحه ۳۸۳) لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظ میں لَمَّا الا کے معنی میں ہے یعنی ہر کسی پر ( خدا کی طرف سے) کوئی نگران مقرر رہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو إِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظ ( الطارق: ۵) جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک نفس پر ایک فرشتہ نگہبان ہے یہ صاف دلالت کر رہی ہے کہ جیسا کہ انسان کے ظاہر وجود کیلئے فرشتہ مقرر ہے جو اُس سے جدا نہیں ہوتا ویسا ہی اس کے باطن کی حفاظت کیلئے